کراچی (این این آئی)قبض ایک عام مگر تکلیف دہ مسئلہ ہے جس کا سامنا زندگی میں تقریباً ہر شخص کو کسی نہ کسی وقت کرنا پڑتا ہے۔
اگرچہ یہ شکایت عمر رسیدہ افراد میں زیادہ دیکھی جاتی ہے، تاہم نوجوان اور بچے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی کی کمی، فائبر سے بھرپور غذا کا کم استعمال، بعض ادویات، مختلف بیماریوں، اعصابی مسائل اور ذہنی دباؤ قبض کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ماہرین صحت نے کہاکہ متوازن غذا کے ساتھ چند ایسے پھل روزمرہ خوراک میں شامل کرنے سے قبض سے نجات پانے اور اس سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ناشپاتی فائبر، پانی، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو آنتوں کی حرکت بہتر بنا کر قبض کے مسئلے میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔تربوز میں اگرچہ فائبر نسبتاً کم ہوتا ہے، لیکن اس کا تقریباً 92 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جو جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود لائیکوپین اور دیگر غذائی اجزائ بھی صحت کے لیے مفید ہیں۔سیب میں قدرتی فائبر کے ساتھ سوربیٹول (Sorbitol) نامی قدرتی شکر پائی جاتی ہے، جو ہلکے جلاب جیسا اثر رکھتی ہے اور آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتی ہے۔خشک آلو بخارے (Prunes) قبض کے لیے مؤثر ترین غذاؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان میں موجود سوربیٹول اور فائبر آنتوں کو متحرک کرتے ہیں، تاہم ماہرین اس کے اعتدال سے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ زیادہ مقدار ہاضمے کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔انار میں موجود فائبر کی خاص قسم نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے،
جس سے قبض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔کھجور فائبر کی دو اقسام اور قدرتی سوربیٹول پر مشتمل ہوتی ہے، جو ہاضمے کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔ تاہم اس کا زیادہ استعمال بعض افراد میں الٹا اثر بھی ڈال سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔کشمش میں فائبر کے ساتھ ٹارٹیرک ایسڈ (Tartaric Acid) موجود ہوتا ہے، جو قدرتی طور پر آنتوں کی حرکت بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور قبض سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق صرف پھلوں پر انحصار کرنے کے بجائے روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، فائبر سے بھرپور غذا استعمال کرنا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا بھی قبض سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔ اگر قبض طویل عرصے تک برقرار رہے یا اس کے ساتھ شدید درد، خون آنا یا وزن میں غیر معمولی کمی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔



















































