کراچی(این این آئی)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس کارروائی کرتے ہوئے
افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے نادرا کے دو افسران سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں نیٹ ورک کے مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر سے روابط کی نشاندہی بھی ہوئی ہے، جبکہ مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔ایف آئی اے کراچی زون کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں انعام الحق (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، فیاض احمد (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، نادرا)، جنید احمد (چوکیدار، نادرا) اور محمد عمر شاہ (نجی ایجنٹ) شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو مشترکہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر سہولت فراہم کر رہے تھے۔ تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ابتدائی شواہد سے اس نیٹ ورک کے دہشت گرد عناصر سے مبینہ روابط کی بھی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران اہم سرکاری ریکارڈ، دستاویزی شواہد اور دیگر مواد قبضے میں لے لیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام سہولت کاروں، معاونین اور مرکزی کرداروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی سلامتی، دہشت گردی کی معاونت، جعلی شناختی دستاویزات کے اجرا اور ایسے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے تک بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھیں گے۔



















































