منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے عمرہ ویزہ نظام میں نئی تبدیلی متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی

datetime 17  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سعودی عرب عمرہ ویزہ کے نظام میں ایک نئی سہولت شامل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت ٹرانسپورٹ کی لازمی شرط کے بعد اب کھانے کے واؤچر کو بھی ویزہ پیکج کا حصہ بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس تبدیلی سے عمرہ کے اخراجات میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت عمرہ زائرین سے ان کے قیام کے ہر دن کے حساب سے تقریباً 20 سعودی ریال اضافی وصول کیے جائیں گے، اور یہ رقم عمرہ ویزہ کی مجموعی فیس میں شامل ہوگی۔

اطلاعات ہیں کہ اس نئے نظام پر یکم ربیع الاول سے عملدرآمد متوقع ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس کا اطلاق صرف پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر سے آنے والے عمرہ زائرین پر کیے جانے کا امکان ہے۔

منصوبے کے تحت سعودی عرب کے 10 ہزار سے زائد مقامی ریستورانوں کو نسک (Nusuk) ایپ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ ہر زائر کو ایک مخصوص BRN کوڈ فراہم کیا جائے گا، جسے عمرہ ویزہ سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے کے بعد ہی ویزہ جاری کیا جا سکے گا۔

تاہم اس حوالے سے سعودی حکام نے ابھی تک کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن یا تفصیلی اعلامیہ جاری نہیں کیا۔ توقع ہے کہ سرکاری وضاحت کے بعد اس نئے نظام کے طریقۂ کار اور دیگر تفصیلات سامنے آئیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…