اسلام آباد(این این آئی) آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 10 مارچ 2025 کو طے پانے والے معاہدے کی باقی ماندہ شقوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے
اور انہیں آئندہ وفاقی بجٹ 2026ـ27 کا حصہ بنایا جائے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں چیئرمین کوآرڈینیٹر رحمان باجوہ سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سرکاری ملازمین مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق اگیگا رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاونسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے، نیا پے اسکیل 2026 متعارف کرایا جائے، جبکہ پنشن کا موجودہ نظام بحال رکھا جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونس (DRAـ2026) محروم ملازمین کو دیا جائے، جبکہ گریڈ 1 سے 22 تک تمام ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔اگیگا نے کہا کہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے جبکہ دیگر ملازمین کے لیے 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔ کنوینس، میڈیکل اور رینٹ الاونسز میں 200 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ ٹیچرز اور ریسرچرز پر عائد 25 فیصد ٹیکس سلیب فوری واپس لیا جائے، کم از کم اجرت 50 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے اور دوران سروس فوت ہونے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لیو انکیشمنٹ، اپگریڈیشن اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن سمیت تمام مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور ان کے فیصلوں پر فوری عمل کیا جائے۔اگیگا رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ملازمین کے مطالبات کو بجٹ میں شامل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی تنظیمیں وفاقی بجٹ سے ایک روز قبل پارلیمنٹ ہاؤس اور سیکرٹریٹ کے سامنے پرامن احتجاج اور دھرنا دیں گی جو بجٹ تک جاری رہے گا۔



















































