کراچی(این این آئی) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے،
جبکہ پاکستان میں ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ نے مقامی آئل ریفائنریوں کے لیے سنگین مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث ملکی معیشت پر دبا میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران ایرانی ڈیزل اور پٹرول کی غیر قانونی ترسیل میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ملک کی بڑی ریفائنریوں، جن میں پارکو،پاکستان ریفائنری ،نیشنل ریفائنری اور اٹک ریفائنری نے مشترکہ طور پر چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اٹھارٹی(اوگرا) کو خط ارسال کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسمگل شدہ ایرانی تیل مقامی ریفائنریوں کی پیداوار اور کاروبار کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ریفائنریوں نے اپنے خط میں موقف اختیار کیا کہ حکومت مقامی پیداوار کم کرنے کے بجائے سرحد پار غیر قانونی تیل کی آمد روکنے کے لیے مثر اقدامات کرے، کیونکہ اسمگل شدہ مصنوعات کی وجہ سے مقامی ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ماضی کی طرح صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس سے ریفائنریوں کی پیداوار، مالی استحکام اور ملکی سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ 2024 میں انٹیلی جنس اداروں نے 738 پیٹرول پمپس، اسمگلروں اور بعض سرکاری اہلکاروں پر مشتمل ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا تھا، جس کے باعث قومی خزانے کو سالانہ 227 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچ رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق روزانہ تقریبا 5 ہزار ٹن اسمگل شدہ ڈیزل پاکستان لایا جا رہا ہے، جو ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مجموعی طلب کا تقریبا 23 فیصد بنتا ہے، جبکہ حکومت کو فی لیٹر تقریبا 80 روپے کی پٹرولیم لیوی اور کسٹم ڈیوٹی سے محرومی کا سامنا ہے۔دوسری جانب کویت اور سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں پاکستان کو تیل کی فراہمی بڑھا دی ہے تاکہ ممکنہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔صنعتی حلقوں نے حکومتِ بلوچستان کی اس تجویز پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں صوبے میں ایرانی ڈیزل 280 روپے فی لیٹر فروخت کرنے کی اجازت دینے کی بات کی گئی تھی۔ریفائنری مالکان کے مطابق اگر اسمگل شدہ پٹرولیم مصنوعات کی روک تھام نہ کی گئی تو مقامی ریفائنری سیکٹر میں کی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔



















































