جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نے اپنے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی کا اہم مطالبہ اٹھادیا

datetime 22  اپریل‬‮  2026 |

تہران (این این آئی)ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران ایران نے اپنے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی کا اہم مطالبہ اٹھایا ہے۔

تاہم ان اثاثوں کی درست مالیت کے حوالے سے کوئی حتمی اور تصدیق شدہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ایرانی سرکاری رپورٹس اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 ارب ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ یہ اثاثے دراصل وہ رقوم ہیں جو ایران نے تیل کی برآمدات اور دیگر ذرائع سے حاصل کیں، لیکن بین الاقوامی پابندیوں کے باعث مختلف ممالک کے بینکوں میں منجمد ہو گئیں۔ایران پر پابندیوں کا آغاز 1979 کے بعد ہوا اور اس کے جوہری پروگرام کے باعث وقت کے ساتھ ان میں مزید سختی آتی گئی۔ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کو اپنی کمائی گئی رقوم تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔رپورٹس کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے مختلف ممالک میں موجود ہیں، جن میں چین میں کم از کم 20 ارب ڈالر، بھارت میں 7 ارب ڈالر، عراق میں تقریبا 6 ارب ڈالر، قطر میں 6 ارب ڈالر اور جاپان میں تقریبا 1.5 ارب ڈالر کے اثاثے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا کے پاس ایران کے تقریبا 2 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں بھی ایران کی رقوم منجمد ہیں، جن میں لگسمبرگ میں تقریبا 1.6 ارب ڈالر شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق ان اثاثوں کی بحالی ایران کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک کی معیشت کئی برسوں سے پابندیوں کے باعث دبا کا شکار ہے۔ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی سست روی جیسے مسائل نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو یہ منجمد اثاثے واپس مل جاتے ہیں تو وہ اپنی معیشت کو سہارا دینے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور جنگ کے بعد بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…