جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

خاتون ملازمہ کا کم تنخواہ پر دلچسپ احتجاج، دفتر میں سوگئی، باس کی چاکلیٹ بھی کھالی

datetime 18  اپریل‬‮  2026 |

بیجنگ (این این آئی)چین میں خاتون ملازمہ کم تنخواہ پر احتجاج کرتے ہوئے دفتر میں سو گئی جبکہ باس کی چاکلیٹ بھی کھا گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق خاتون کافی عرصے سے اپنی تنخواہ اور کام کے ماحول سے ناخوش تھی۔ خاتون نے بتایا کہ باس کا رویہ سخت اور غیر مناسب ہے جس کے باعث وہ ذہنی دبائو کا شکار تھی، اسی تنائو کے دوران اس نے دفتر میں ہی تقریبا پانچ گھنٹے تک سونے کا فیصلہ کیا اور اپنی ڈیوٹی کے اوقات نیند میں گزار دیئے۔جب باس نے غیر معمولی رویے کی وجہ پوچھی تو خاتون نے نہ صرف بے دھڑک جواب دیا بلکہ اسی دوران اس کی میز پر موجود چاکلیٹ بھی اٹھا لی۔ بعد ازاں خاتون نے خود سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کا باس مبینہ طور پر ایسی کیفیت میں مبتلا ہے جس میں جسم میں شوگر کی کمی ہو جاتی ہے، اس دن بروقت چاکلیٹ نہ ملنے پر وہ کمزوری کا شکار بھی ہوگیا تھا۔ ویڈیو میں خاتون نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باس کو واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ ملازم کو جتنی تنخواہ دی جائے، کام بھی اسی حساب سے ملتا ہے۔ خاتون نے ناقدین کو بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کم تنخواہ پر کام نہیں کرتے، وہ اس صورتحال کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…