اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلا دور میں ابتدائی بات چیت مثبت رہی ،دوسرے دور میں تکنیکی ماہرین کی سطح پر مذاکرات ہوئے،ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مذاکرات (آج) اتوار کو بھی جاری رہنے کاامکان ہے ۔
ہفتہ کو پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان تاریخ ساز امن مذاکرات کا آغاز ہو ا ہے جہاں دونوں فریقین کشیدگی کے بعد پہلی بار براہ راست ایک میز پر بیٹھے ۔ بی بی سی کے مطابق دو سرکاری عہدیداروں تصدیق کی کہ ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والے پہلے دور کے مذاکرات میں پاکستانی ثالث بھی موجود تھے۔ایک ذرائع کے مطابق ابتدائی بات چیت مثبت رہی ہے۔ مختصر وقفے کے دوران سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے ہوئے جس میں تکنیکی ماہرین کی سطح پر بات چیت ہوئی ، مذاکرات کے اس مرحلے میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے تکنیکی پہلوئوں کا جائزہ لیا گیاوائٹ ہائوس پریس پول کی رپورٹ میں وائٹ ہائوس کے اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ کی طرف سے مختلف امور کے تکنیکی ماہرین اسلام آباد میں موجود گی کا بتایاگیا،واشنگٹن سے اضافی ماہرین کی حمایت حاصل رہی جبکہ اسلام آباد آنے والے ایرانی مذاکراتی وفد میں بھی ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی سمیت تکنیکی ماہرین کی موجودگی کا بتایاگیا۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیاکہ اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد پاکستان کی موثر سفارت کاری اور عالمی قیادت کے مثبت بیانات نے جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کی امید کو مزید تقویت دی ہے جبکہ دنیا کی نظریں مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطی کے لیے نمائندے اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں۔ایرانی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر رہنمائوں پر مشتمل ہے۔میڈیا رپورٹس میں ایران اور امریکا کی معاشی، سیاسی اور قانونی ٹیکنیکل کمیٹیوں کی ملاقاتوں کا بتایاگیا اور مذاکرات میں دونوں اطراف سے ان کے ماہرین نے بھی شرکت کی ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ادوار پر مشتمل باضابطہ مذاکرات اب تک مکمل ہوچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوئے۔جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وفد سے ملاقات کی، امریکی وفد نے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی سے براہِ راست بات چیت کی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی میں ہوئی۔ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کا مجموعی ماحول مثبت رہا ، نتائج بھی مجموعی طور پر حوصلہ افزا قرار دیے گئے ۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطح کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں، ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور ان کے معاون وزیرخارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر شامل تھے اور ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرداخلہ محسن نقوی اور دیگر بھی موجود تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے حل کے لیے بطور مصالحت کار مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا تاکہ خطے اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں معنی خیز نتائج کے حصول کے لیے پیش رفت میں مدد ملے۔امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظ و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور محسن نقوی بھی موجود تھے۔ قبل ازیں بتایاگیاتھاکہ ہفتہ کی شام بات چیت شام شروع ہوئی اور یہ براہِ راست بات چیت نہیں تھی اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہو ا تھا ۔ مذاکرات کیلئے ایرانی وفد جمعہ کی رات اسلام آباد پہنچا جس کی قیادت سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جبکہ امریکی وفد ہفتہ کی صبح نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد آیا۔دوسری جانب امریکی میڈیا اورامریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایاکہ اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات (آج) اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 47سال کی کشیدگی ہے۔ وزیر قانون نے کہاکہ امریکا ایران کو ایک میز پر بِٹھا دیا ہے، 47سالہ کشیدگی ہے،کئی دفعہ معاملات گھنٹے 2 گھنٹے کی نشستوں میں طے نہیں ہوتے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ دونوں فریقین نے کہاں رکنا اور چلنا ہے، دونوں اپنے ممالک میں بھی رابطے میں ہیں، دونوں فریقین کوئی چیز فائنلائز کرنے سے پہلے اپنی قیادت سے بھی مشاورت کریں گے ۔انہوںنے کہاکہ بادی النظر میں 10اپریل کی تاریخ تھی اور ایک روز کی گفتگو کا اندازہ تھا، اگر یہ انگیجمنٹ مثبت رہتی ہے تو بات (آج) اتوار پر بھی جاسکتی ہے۔یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کو اس بات چیت کی دعوت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دی تھی۔خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اپریل کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں۔اس حوالے سے شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر جگہ بشمول لبنان فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میں ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔یاد رہے کہ 1979کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلی ترین سطح پر بیٹھک ہوئی ہے۔



















































