واشنگٹن (این این آئی)عالمی ماہرین نے کہاہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان نازک جنگ بندی کے باوجود تیل اور گیس کی قیمتوں کو معمول پر آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر دیا تھا، اس رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں شدید بحران پیدا ہوا اور قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ماہرین کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے باوجود جب تک اس اہم سمندری راستے سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بحال اور مستحکم نہیں ہوتی، قیمتوں میں کمی ممکن نہیں۔توانائی کے شعبے سے منسلک ماہرین کا کہنا تھاکہ یہ عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے، تیل کی ترسیل میں رکاوٹ، انفرااسٹرکچر پر حملے اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایل این جی اور دیگر توانائی ذرائع کی بحالی میں بھی 3 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ کچھ ممالک نے ذخیرہ کرنے کی کمی کے باعث تیل کی پیداوار بھی عارضی طور پر بند کر دی ہے
جس سے سپلائی مزید متاثر ہوئی ہے۔ادھر عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے باعث عالمی معیشت کی شرحِ نمو کم ہو سکتی ہے۔عرب میڈیا کی رپورٹ بتایا گیا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن خطے میں غیر یقینی صورتِ حال اور رسد کے خطرات کی وجہ سے تیل کی قیمتیں فوری طور پر کم ہونے کا امکان نہیں۔



















































