اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)روس اور یوکرین نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے،
جس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی افواج کو فائرنگ روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی مسلسل جنگ بندی کی اپیلیں کرتے آ رہے تھے، جنہیں ماضی میں کریملن کی جانب سے خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔اب روسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ہفتہ 11 اپریل کو مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے لے کر ایسٹر تک جنگ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوکرین بھی اسی طرح کا اقدام کرے گا۔پیوٹن نے اپنی فوج کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی یا حملے کی صورت میں مکمل تیار رہے اور دفاعی اقدامات کو یقینی بنائے۔دوسری جانب زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوکرین بھی اسی نوعیت کے اقدامات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو محفوظ ایسٹر اور امن کی طرف حقیقی پیش رفت کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل رواں ہفتے یوکرینی صدر نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ وہ جنگ بندی کی تجویز ابتدائی قدم کے طور پر ماسکو تک پہنچائے، خاص طور پر تعطیلات کے دوران۔رپورٹس کے مطابق اگرچہ یہ جنگ بندی عارضی ہے، تاہم اس سے مشرقی یوکرین کے محاذ پر موجود فوجیوں کو کچھ مہلت مل سکتی ہے جو مسلسل ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔اسی طرح عام شہریوں کے لیے بھی یہ وقفہ کسی حد تک سکون کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ وہ روزانہ فضائی حملوں کے سائرن اور میزائل و ڈرون حملوں کے خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔



















































