اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کو ٹالنے میں پیش رفت ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس کا کریڈٹ لیا، جبکہ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک بیان بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔ اس بیان میں پاکستان کی قیادت کی کاوشوں کو سراہا گیا اور خطے کو بحران سے بچانے میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا گیا۔
شیئر کیے گئے بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکا کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی تجاویز کے تناظر میں، صدر ٹرمپ نے ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد ایران نے اپنا مؤقف واضح کیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کر دیے جائیں تو اس کی افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔ ساتھ ہی ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت دو ہفتوں تک ممکن ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے لیے عسکری رابطہ اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھا جائے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہیں۔



















































