اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چلڈرن اسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی سے ڈاکٹر احمد لطیف کی لاش ملنے کے واقعے میں ابتدائی تحقیقات کے دوران اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔
پولیس اور خاندانی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر احمد کی موت کی ایک ممکنہ وجہ ان کی ذاتی زندگی میں پیش آنے والے مسائل بتائی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے تقریباً دو سال قبل پسند کی شادی کی تھی اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے، تاہم چند ماہ پہلے طلاق کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے۔اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹر احمد گزشتہ تین روز سے گھر واپس نہیں آئے تھے، جس پر تشویش بڑھنے پر اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا۔ اسپتال ریکارڈ سے بھی معلوم ہوا کہ وہ دو دن سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئے تھے۔واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پارکنگ میں موجود ایک گاڑی سے بدبو آنے پر سیکیورٹی عملے نے انتظامیہ کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر گاڑی کھولی تو ڈاکٹر احمد ڈرائیونگ سیٹ پر مردہ حالت میں پائے گئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کی چابی اندر ہی موجود تھی اور متوفی نے سیٹ بیلٹ بھی باندھ رکھی تھی، جبکہ ان کا موبائل فون بند حالت میں ملا۔ مزید یہ کہ گاڑی سے ڈپریشن کے علاج کی ادویات بھی برآمد ہوئی ہیں۔پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے، تاہم ابتدائی شواہد ذہنی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔



















































