کراچی (این این آئی) مشیر وزیراعلی سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی
(پی ڈی ایم اے)سندھ نے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے پیش نظر صوبے بھر میں ممکنہ بارشوں، تیز ہواں، گرج چمک اور بعض مقامات پر ژالہ باری کے خطرے کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ مشیر وزیراعلی سندھ گیانچند ایسرانی کا کہنا ہے کہ یکم اپریل سے مغربی سسٹم بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہوگا جو 4 اپریل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس موسمی نظام کے زیر اثر کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، سکھر، دادو، کشمور، جیکب آباد، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور تھرپارکر سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں 2 سے 4 اپریل کے دوران وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک متوقع ہے جبکہ بعض علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تیز ہوائیں اور آسمانی بجلی کمزور ڈھانچوں، بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جبکہ کھڑی فصلوں کو بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ کسانوں کو موسمی صورتحال کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور شہریوں و مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔موسمی نظام کے باعث دن کے درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے۔ گیانچند ایسرانی کی ہدایت پر پی ڈی ایم اے سندھ نے تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے، نکاسی آب، ہنگامی مشینری کی دستیابی، ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ گیانچند ایسرانی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ ممکنہ موسمی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
تمام اضلاع میں ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، بلدیاتی اداروں اور صحت کے محکموں کو پیشگی الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کی ہدایات پر مربوط ڈیزاسٹر رسپانس سسٹم کے تحت تمام ادارے باہمی رابطے میں کام کر رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔شہری سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ گیانچند ایسرانی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے حالیہ برسوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو مضبوط بنایا ہے جس کے باعث ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی استعداد میں نمایاں بہتری آئی ہے اور متعلقہ ادارے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار اور متحرک ہیں۔



















































