ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

افغانوں کو پاکستانی خاندانوں میں شامل کرکے جعلی شناختی کارڈ بنانے والا گروہ گرفتار

datetime 30  مارچ‬‮  2026 |

بنوں(این این آئی)پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے افغان مہاجرین کو پاکستانی خاندانوں کا حصہ بنا کر جعلی شناختی کارڈز بنانے والے گروہ کو گرفتار کر لیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کو ملنے والی مصدقہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی، جس میں ایس پی سٹی توحید خان اور ایس ایچ او تھانہ سٹی ریاض خان نے پولیس ٹیم کے ساتھ مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔گرفتار ملزمان کی شناخت اجمل ولد عبد الرزاق اور بادشاہ خان ولد لاہور خان کے نام سے ہوئی، جو افغان شہری نقیب شاہ ولد زرکلام شاہ کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔پولیس کے مطابق گرفتار افغان شہری صوبہ خوست کا رہائشی ہے، جس نے چمن بارڈر سے دراندازی کے بعد بنوں تک چھپتے چھپاتے سفر کیا۔گرفتار افغان شہری نے اعتراف کیا کہ اس کے والد نے گروہ کے مفرور ارکان مامور سکنہ کوئٹہ اور زین اللہ سکنہ میرانشاہ سے 28 لاکھ روپے میں پاکستانی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کا سودا کیا۔ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے افغان باشندوں کو پاکستانی خاندانوں میں شامل کروانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہر افغان باشندے کی شمولیت پر متعلقہ خاندان کو 2 لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جاتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی جبکہ گروہ کے دیگر مفرور ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اس حوالے سے ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے کہا کہ ملکی سالمیت اور عوام کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جعلسازی اور ملک دشمنی میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…