ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

گھر سے پانی بھرنے کیلیے آئی بچی واٹر کارپوریشن کی کھلی لائن میں ڈوب گئی

datetime 25  مارچ‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)گھر سے پانی بھرنے کے لیے آئی بچی واٹر کارپوریشن کی لائن کے کھلے حصے میں ڈوب گئی۔

اسٹیل ٹاؤن کے علاقے گلشن حدید کے قریب واٹر کارپوریشن کی 72 انچ قطر کی لائن میں 14 سالہ بچی ڈوب گئی ، جس کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچی کی تلاش شروع کر دی ۔واقعے کی اطلاع ملنے پر اطراف کے گوٹھوں کے رہائشی بڑی تعداد جائے وقوع پر جمع ہوگئے۔بچی کے ڈوبنے کا افسوس ناک واقعہ منگل کی شام کو پیش آیا تھا ۔بعد ازاں رات گئے تک ریسکیو ٹیم بچی کی تلاش کے لیے لائن میں سرچ آپریشن کرتی رہی اور بالآخر تاریکی کے باعث آپریشن روک دیا گیا تھا، جسے بدھ کی صبح دوبارہ شروع کیا گیا۔پولیس کے مطابق ڈوبنے والی بچی کی شناخت 14 سالہ ثنا دختر نظیر کے نام سے کی گئی جو جائے وقوع کے قریب ہی واقعے ایک گوٹھ کی رہائشی تھی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ثنا واٹر لائن سے پانی بھرنے کے لیے آئی تھی اور پانی بھرنے کے دوران پاں پھسلنے سے گر کر ڈوب گئی۔ اہل علاقہ کے مطابق پانی کی لائن کا کچھ حصہ کھلا ہے، جہاں سے گوٹھ کے افراد پانی بھرتے ہیں۔ترجمان ریسکیو 1122 نے واقعے سے متعلق جاری بیان میں بتایا کہ جوکھیو کے قریب پانی کی لائن میں بچی کے ڈوبنے کی اطلاع 7 بجے شام موصول ہوئی، جس پر سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول نے ٹیم کو جائے وقوع پر روانہ کیا، جہاں آپریشن رات دیر تک جاری رہا، تاہم اندھیرے کے باعث نائٹ آپریشن معطل کرکے صبح دوبارہ تلاش شروع کی گئی۔

بیان کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتا چلا ہے کہ بچی پانی بھرنے کے دوران پھسل کر تیز بہا والے واٹر چینل میں گر گئی۔ مذکورہ لائن سیوریج نہیں بلکہ کینجھر جھیل سے کراچی آنے والی صاف پانی کی سپلائی لائن ہے، جہاں پانی کی گہرائی 25 سے 30 فٹ ہے جب کہ پریشر انتہائی زیادہ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ترجمان کے مطابق صبح دوبارہ سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد سے واٹر ریسکیو اور اسکوبا ٹیمیں تلاش میں مصروف ہیں، جہاں پانی کے بہا کے رخ پر فلٹریشن پلانٹ کی جانب کارروائی جاری ہے۔ریسکیو اہلکار کی جانب سے لائن کے اندر کنٹینر کے ذریعے ممکنہ رکاوٹ/جسم کی موجودگی کا سراغ لگانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق پانی کے تیز بہا کے باعث خدشہ ہے کہ بچی کئی کلومیٹر دور بہہ گئی ہو۔ تاحال بچی کی لاش کا سراغ نہیں مل سکا اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…