ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری دیدی

datetime 25  مارچ‬‮  2026 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں موجود افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق

اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاک-افغان طورخم بارڈر جزوی طور پر کھولنے کی منظوری دے دی ہے ،پہلے مرحلے میں جیلوں میں قید افغان شہریون کی واپسی ہوگی۔پولیس اور حکومتی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر صرف مخصوص قافلوں کے لیے کھولا جائے گا اور واپسی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور پہلا مرحلہ جیلوں میں موجود قیدیوں سے شروع ہوگا جہاں اس وقت بڑی تعداد میں افغان باشندے قید ہیں۔محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق پشاور سینٹرل جیل میں ایک ہزار سے زائد، کوہاٹ اور ہری پور کی جیلوں میں تقریبا 1200 افغان قیدی موجود ہیں، جن کی دیکھ بھال پر روزانہ لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اہل خانہ کی مسلسل آمد اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومت نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں جیلوں سے افغان باشندوں کو نکال کر ناصر باغ کیمپ منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کی رجسٹریشن مکمل کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق رجسٹریشن کے بعد مہاجرین کو باقاعدہ قافلوں کی شکل میں طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کیا جائے گا، اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور خیبر پولیس جمرود سے طورخم بارڈر تک قافلوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ واپسی کا دوسرا مرحلہ مہاجر کیمپوں میں مقیم افغان باشندوں پر مشتمل ہوگا، تیسرے مرحلے میں صوبے کے مختلف شہروں میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے گا، حکام کا کہنا تھا کہ یہ تمام عمل باعزت اور منظم طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔پولیس ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر عام آمد و رفت کے لیے نہیں بلکہ صرف مخصوص قافلوں کے لیے کھولا جائے گا اور افغان مہاجرین کے قافلے کل سے روانہ ہونے کا امکان ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی سے جیلوں پر دبا کم ہوگا، اخراجات میں کمی آئے گی اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر بنائی جا سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…