اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا ہے کہ سائبر کرائم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چھ ایشیائی باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن، اکنامک اینڈ الیکٹرانک سکیورٹی کے تحت قائم اینٹی سائبر کرائم ڈائریکٹوریٹ نے کی۔حکام کے مطابق گرفتار افراد نے ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے اثرات سے متعلق ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر بھی کیا۔ ان ویڈیوز میں مبینہ طور پر ایرانی کارروائیوں کے حق میں ہمدردی اور تعریف کا اظہار کیا گیا تھا، جس سے قومی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق ملزمان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے یہ مواد پھیلایا، جس کے نتیجے میں عوام کو گمراہ کرنے اور شہریوں و غیر ملکی رہائشیوں میں خوف و ہراس پیدا ہونے کا امکان تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو مزید تفتیش اور عدالتی عمل کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معلومات کے لیے صرف مستند اور سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور غیر تصدیق شدہ ویڈیوز یا خبروں کو شیئر کرنے سے اجتناب کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں پانچ پاکستانی اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ ان میں محمد معز اکبر، افضل خان، احمد ممتاز، ارسلان علی ساجد اور عبدالرحمان عبدالستار پاکستانی جبکہ محمد اسرافیل میر بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔
ادھر بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد بعض افراد نے حساس مقامات کی ویڈیوز بنا کر ریاست کے خلاف اقدام کیا ہے، اس لیے ان کے لیے سزائے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ درخواست کن مخصوص ملزمان کے خلاف دی گئی ہے۔



















































