منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’پٹرول کی قیمت ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے نہیں بڑھی‘‘ تو پھر وجہ کیا؟ جانیے اندر کی خبر

datetime 10  مارچ‬‮  2026 |
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) حکومت پاکستان نے خطے کی کشیدہ صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے کا بڑا اضافہ کیا ہے،

تاہم ماہر معاشیات نے اس فیصلے کے لیے پیش کیے گئے حکومتی مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کے بحران کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کا ازسرِ نو تعین اب ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔دو روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد عوام خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے طبقے پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت نے اس اضافے کی وجہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران اسرائیل تنازع کو قرار دیا۔تاہم نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشیات فرخ سلیم نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اضافے کا ایران اسرائیل جنگ سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے ایک دن قبل تک وزیر خزانہ یہ بیان دے رہے تھے کہ ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا پٹرول ذخیرہ موجود ہے۔فرخ سلیم کے مطابق حکومت اکثر یہ مؤقف اپناتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں قیمتیں فوری کم نہیں کی جا سکتیں کیونکہ درآمدی معاہدے تقریباً 45 دن پہلے طے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کا یہ مؤقف درست مان لیا جائے تو ملک میں موجود تیل کا ذخیرہ بھی تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے خریدا گیا ہوگا، جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے 62 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی۔ اس حساب سے یہ تیل تقریباً 105 روپے فی لیٹر میں خریدا گیا تھا، جبکہ اب اسے 321 روپے فی لیٹر کے قریب فروخت کیا جا رہا ہے۔

ماہر معاشیات نے کہا کہ دراصل یہ ایک سادہ سا انوینٹری کا معاملہ ہے جس میں نسبتاً سستا خریدا گیا ایندھن موقع ملتے ہی زیادہ قیمت پر فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ اضافے سے تقریباً 113 ارب روپے کا اضافی فائدہ حاصل ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منافع کا بڑا حصہ حکومت کے خزانے میں جائے گا، تاہم اس عمل میں پٹرولیم کمپنیاں بھی فائدہ اٹھائیں گی۔ ان کے بقول اس پورے عمل کا بوجھ بالآخر عوام پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…