اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) حکومت پاکستان نے خطے کی کشیدہ صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے کا بڑا اضافہ کیا ہے،
تاہم ماہر معاشیات نے اس فیصلے کے لیے پیش کیے گئے حکومتی مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کے بحران کی بات کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کا ازسرِ نو تعین اب ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔دو روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد عوام خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے طبقے پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت نے اس اضافے کی وجہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران اسرائیل تنازع کو قرار دیا۔تاہم نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشیات فرخ سلیم نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اضافے کا ایران اسرائیل جنگ سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے ایک دن قبل تک وزیر خزانہ یہ بیان دے رہے تھے کہ ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا پٹرول ذخیرہ موجود ہے۔فرخ سلیم کے مطابق حکومت اکثر یہ مؤقف اپناتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں قیمتیں فوری کم نہیں کی جا سکتیں کیونکہ درآمدی معاہدے تقریباً 45 دن پہلے طے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کا یہ مؤقف درست مان لیا جائے تو ملک میں موجود تیل کا ذخیرہ بھی تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے خریدا گیا ہوگا، جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے 62 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی۔ اس حساب سے یہ تیل تقریباً 105 روپے فی لیٹر میں خریدا گیا تھا، جبکہ اب اسے 321 روپے فی لیٹر کے قریب فروخت کیا جا رہا ہے۔
ماہر معاشیات نے کہا کہ دراصل یہ ایک سادہ سا انوینٹری کا معاملہ ہے جس میں نسبتاً سستا خریدا گیا ایندھن موقع ملتے ہی زیادہ قیمت پر فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ اضافے سے تقریباً 113 ارب روپے کا اضافی فائدہ حاصل ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منافع کا بڑا حصہ حکومت کے خزانے میں جائے گا، تاہم اس عمل میں پٹرولیم کمپنیاں بھی فائدہ اٹھائیں گی۔ ان کے بقول اس پورے عمل کا بوجھ بالآخر عوام پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔



















































