اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے پاکستان میں آئی فون کی تیاری کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے مجوزہ “موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ فریم ورک” کے تحت دی جانے والی مراعات کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او حماد علی منصور کے مطابق ایپل نے پاکستان میں پروڈکشن شروع کرنے کے لیے تین اہم شرائط رکھی ہیں:
زمین کی فراہمی رعایتی نرخوں پر۔
8 فیصد پرفارمنس انسینٹو (موجودہ مینوفیکچررز کو 6 فیصد مل رہا ہے)۔
دو سے تین سال پرانے آئی فونز کی مرمت اور دوبارہ برآمد (Refurbishing) کی اجازت۔
حماد علی منصور کے مطابق ایپل پاکستان میں پرانے آئی فونز کی مرمت کر کے دوبارہ برآمد کرے گا، جس سے پہلے سال تقریباً 100 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ پہلے سال مقامی پرزہ جات کا استعمال موبائل فونز میں 12 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد، اور بعد میں 50 فیصد تک لے جایا جائے۔
مزید برآں، حکومت کا ارادہ ہے کہ 1 لاکھ روپے سے زائد قیمت والے فونز پر 6 فیصد ایکسپورٹ لیوی عائد کی جائے، جس سے حاصل ہونے والے 62 ارب روپے ٹیکنالوجی کی مقامی تیاری میں استعمال ہوں گے۔ جبکہ 50 سے 60 ہزار روپے کے فونز پر کوئی لیوی عائد نہیں ہوگی۔
حماد علی منصور نے یہ بھی بتایا کہ لاہور میں ایک کمپنی مقامی طور پر آلٹو جیسی چار پہیوں والی الیکٹرک کار تیار کرنے کے لیے پلانٹ لگا رہی ہے، جس کی قیمت 7 سے 8 لاکھ روپے کے درمیان ہوگی۔ حکومت ای بائیکس کی طرح اب چار پہیوں والی گاڑیوں پر بھی 40 فیصد سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ الیکٹرک موٹر گاڑیوں کی مقامی صنعت کو فروغ مل سکے۔



















































