ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

زلزلے نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2015 |

پاکستانی تاریخ میں آنے والے زلزلوں میں سے گزشتہ روز آنے والا زلزلہ ریکٹر سکیل پر اپنی شدت کے لحاظ سے تاریخ کا شدید ترین زلزلہ قرار پایا ،محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 8.1ریکارڈ گئی گئی جبکہ ملک میں 2005 ءکو آنے والے زلزلے کی شدت 7.6اور 2008ءمیں آنے والے زلزلے کی شدت 6.4ریکارڈ کی گئی تھی ۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ سمیت افغانستان اور ہندوستان میں گزشتہ روز زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1تھی ۔پاکستان میں زلزلوں کی تاریخکے مطابق 24ستمبر 2013ءکو بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 328افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے سے جنوب مغربی صوبے میں ہزروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔کوئٹہ میں سولہ اپریل 2013ءکو ریکٹر اسکیل پر 7.9کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے پاکستان، ایران، ہندوستان اور چند خلیجی ملکوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔ اس زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحد کے قریب واقع ایران میں سروان کا علاقہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں چونتیس افراد کی ہلاکت جبکہ اسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ دوسری جانب ایک لاکھ کے قریب مکانات زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوئے تھے۔چار اپریل، 2013 کو پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، ریکٹر اسکیل پر ان جھٹکوں کی شدت 5.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مذکورہ زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔سترہ فروری 2013ءکو 5.5کی شدت سے آنے والے زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول فاٹا کو ہلا دیا تھا، جن میں نوشہرہ، پشاور، ملاکنڈ، شانگلہ، گلگت بلتستان کے مختلف علاقے، لوئر دیر اور خیبر کے قبائلی علاقے شامل ہیں۔ اس زلزلے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔انتیس دسمبر2012 ءکو افغانستان کے ہندوکش علاقے میں 5.8کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے پاکستان کے بھی کچھ حصوں میں محسوس کیے گئے، تاہم اس کے نتیجے میں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں۔اٹھارہ جولائی، 2012کو 5.7کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز محکمہ موسمیات کے مطابق کوہ ہندوکش تھا تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔بارہ جولائی، 2012کو 6.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، روالپندہ اور پنجاب میں محسوس کیے گئے اور اس کا مرکز بھی کوہ ہندوکش میں تقریبا 194 کلومیٹر زیرزمین تھا اور اس کے نتیجے میں نقصانات کا اطلاع نہیں۔پچیس مئی2012ءکو ایک درمیانی شدت کا زلزلہ کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیا گیا تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔بارہ مئی2012ءکو کوئٹہ کے علاقے سہراب میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انیس جنوری2012ءکو ریکٹر اسکیل پر 4.5کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور متاثرہ علاقوں کوئٹہ، زیارت، خانوزئی، پشین، ہرنائی، قلعہ عبدللہ اور ٹوبہ اچکزئی شامل تھے۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے نوے کلومیٹر جنوب میں ضلع زیارت کا علاقہ ٹوبہ اچکزئی تھا، تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔پندرہ مئی2011ءکو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جس کی شدت 4.7تھی اور اس کا مرکز مانسہرہ سے چونسٹھ کلومیٹر شمال مغرب میں اکتالیس کلومیٹر زیرِزمین تھا۔ اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔تین اپریل 2011کو سات گھنٹوں کے وقفے کے دوران کراچی میں 2.8اور 4.7شدت کے دو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ان سے بھی کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں۔بائیس جنوری2011ءکو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے ایک سو اٹھاسی کلومیٹر شمال میں ضلع فیض آباد تھالیکن اس کے نتیجے میں بھی کسی فوری جانی نقصان کی اطلاعات نہیں تھیں۔بیس جنوری2011ءکو 7.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز بلوچستان کا ضلع خاران میں تھا۔ اس کے نتیجے میں دو سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے تھے۔اٹھارہ جنوری2011ءکے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کئی افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچاس کلومیٹر مغرب میں تھا۔اٹھائیس اکتوبر 2010کو خیبر پختونخواہ، پنجاب، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔اٹھارہ جنوری2010ءکو 7.4 کی شدت سے والا زلزلہ کراچی میں محسوس کیا گیا، جس کا دورانیہ تقریبا ایک منٹ تھا۔ اس زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچپن کلومیٹر مغرب میں تھا تاہم اس سے کسی بڑے نقصان کی اطلاعات نہیں ملی تھی۔اٹھائیس اکتوبر، 2008 کو ریکٹر اسکیل پر 6.4کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ تین سو ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کئی عمارتیں بھی تباہ ہوئی تھیں۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔آٹھ اکتوبر 2005ءکو ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔ زلزلے کے نتیجے میں اسی ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت، دو لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے 978 آفٹرشاکس کا سلسلہ ستائیس اکتوبر تک جاری رہا تھا۔چودہ فروری2004ءکو ریکٹر اسکیل پر 5.7اور 5.5کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔تین اکتوبر 2002ءکو ریکٹر اسکیل پر 5.1کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔چھبیس جنوری 2001ءکو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صوبہ سندھ میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ ایک سو آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.5نوٹ کی گئی تھی۔بیس مارچ 1997کو ریکٹر اسکیل پر 4.5کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں باجوڑ کے قبائلی علاقے کے گاں سلارزئی میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اٹھائیس فروری1997ءکو ریکٹر اسکیل پر 7.2کی شدت کا زلزلہ پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا جبکہ اس کا دورانیہ تیس سے نوے سیکنڈز تک تھا۔ پاکستان کے تقریبا تمام علاقوں میں محسوس کیے جانے والے اس زلزلے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔اکتیس مئی1995ءکو نصیر آباد ڈویژن کے بگٹی پہاڑوں کے دامنی علاقوں میں آنے والے 5.2شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک درجن مکانات تباہ اور تین بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔سولہ جنوری 1978ءکو پشاور میں ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کا مرکز پشاور سے تین سو کلومیٹر شمال میں کوہ ہندوکش میں تھا۔ اس زلزلے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔بیس اکتوبر 1975ءمیں کوئٹہ میں ایک انتہائی شدید زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ستائیس جنوری 1975ءکو مری بگٹی میں بھی ایک درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کا مرکز کوئٹہ سے ایک سو چالیس کلومیٹر جنوب میں کوہ سلیمان میں تھا۔ تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اٹھائیس دسمبر1974کو ریکٹر اسکیل پر 7.4 کی شدت کے زلزلے سے ہزارہ، ہنزہ، سوات اور خیبر پختونخواہ میں پانچ ہزار تین ہلاکتیں ہوئی تھیں جبکہ سترہ ہزار افراد زخمی اور چار ہزار چار سو مکانات بھی تباہ ہو گئے تھے۔تیس جون 1974ءکو پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک انتہائی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے جھٹکے تیس سیکنڈز تک محسوس کیے گئے اور اس کے نتیجے میں چار ہلاک اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔اٹھارہ مئی 1974ءکو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے ایبٹ آباد میں محسوس کئے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اسی طرح تیرہ مئی 1973ءکو راولپنڈی اور اسلام آباد میں درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس زلزلے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔چھ مئی 1972ءکو راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے کئی سیکنڈز تک محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگ عمارتوں سے باہر آ گئے تھے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔یکم جنوری 1972ءکو اسلام آباد، راولپنڈی، ایبٹ آباد، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں اٹھارہ سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور اس کے بعد، سیالکوٹ میں بھی پچاس سیکنڈز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اٹھائیس دسمبر 1971ءکو پشاور اور راولپنڈی میں شدید نوعیت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔دو اکتوبر 1971ءکو ایبٹ آباد اور ہزارہ کے چند حصوں میں زلزلے کے پانچ جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔یکم اکتوبر 1971ءکو راولپنڈی میں درمیانی شدت کا زلزلہ آیا تھا تاہم اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔دس ستمبر 1971ءکو گلگت کے کچھ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔چار ستمبر 1971ءکو ایبٹ آباد میں چھ مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔تین ستمبر 1971ءکو راولپنڈی میں دو منٹ کے وقفے کے دوران سات زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم اس کے نتیجے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…