لاہور (این این آئی) لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)میں سولر سسٹم پر منتقل ہونے والے ہزاروں کنکشنز کی بلنگ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث صارفین کو سولر ایکسپورٹ یونٹس کے بجائے امپورٹ یونٹس کے بھاری بلز جاری کیے گئے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ لیسکو نے سولر سسٹم کی بنیاد پر ایکسپورٹ یونٹس کی ریڈنگ چارج نہ کی، جس کے نتیجے میں صارفین کے میٹرز سے پیدا ہونے والی برقی توانائی (ایکسپورٹ)کو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے صارفین کو امپورٹ یونٹس کے بلز بھجوا دیے گئے، جس سے انہیں غیر حقیقی اور بھاری بلز کی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑا۔
سولر سسٹم کے باوجود صارفین کے لیے امپورٹ یونٹس پر بلنگ جاری رہنے کی وجہ سے انہیں کسی قسم کی ریلیف نہ مل سکا۔ بعض صارفین کے میٹرز نصب بھی ہو گئے، لیکن بلنگ نہ ہونے کے باعث انہیں فائدہ نہیں پہنچا۔ذرائع کے مطابق لیسکو کے مختلف دفاتر میں صارفین کے کنکشنز پر ایکسپورٹ موڈ کو بند (آف)کر دیا گیا، جس سے ایکسپورٹ شدہ یونٹس کو دانستہ طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی نے لائن لاسز کو چھپانے اور اپنے نقصان کو کم دکھانے کے لیے ایکسپورٹ یونٹس کو روکنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔















































