ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

اوورسیز پاکستانیوں کے لئے بڑی خوشخبری

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 9 دسمبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اب مخصوص دو اسکیموں کے تحت تین سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کر سکیں گے۔ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ اجازت وزارتِ تجارت کی پیش کردہ سمری کی بنیاد پر دی گئی، جس میں گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسی میں ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔ نئی منظوری کے تحت صرف ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پالیسی میں تبدیلی کے بعد گاڑی درآمد کرنے کی مدت دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی ہے، تاہم درآمد کی جانے والی گاڑی کو کم از کم ایک سال تک فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکے گا۔حکام کے مطابق وزارتِ قانون جیسے ہی کابینہ کے فیصلے کے مطابق ایس آر او کی قانونی توثیق مکمل کرے گی، اسے وزارتِ تجارت کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی، جس میں دو بنیادی امور پر غور کیا گیا:اول، کن اسکیموں کو برقرار رکھا جائے، اور دوم، ان اسکیموں کے لیے کن شرائط کا اطلاق ہو۔وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیم کو جاری رکھنے کی حمایت کی، جبکہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے گفٹ اور پرسنل بیگیج اسکیم ختم کرنے کی تجویز دی۔ ان اداروں کا مؤقف تھا کہ مذکورہ اسکیموں کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل 24 اکتوبر 2025 کو ہونے والے ای سی سی اجلاس میں اسی سمری پر ابتدائی غور کیا گیا تھا، جس کے بعد وزارتِ تجارت کو ہدایت دی گئی تھی کہ تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے مشاورت کے بعد تجاویز کو دوبارہ حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ان ہدایات کے تحت بعد ازاں ایک بین الوزارتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ایف بی آر، وزارتِ صنعت و پیداوار/ای ڈی بی، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…