منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

سونگھ کر بیماری بتانے والی خاتون

datetime 19  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) کچھ انسانوں میں عام لوگوں سے ہٹ کر ایسی خداداد صلاحیتں ہوتی ہیں جو دوسروں کو حیران کردیتی ہیں اور آسٹریلیا میں ایک خاتون کے پاس ایسی ہی حیرت انگیز صلاحیت ہے جس کی مدد سے وہ بیماری کی بوسونگھ کر اس کے تشخیص کرلیتی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مغربی آسٹریلیا کے دارالحکومت پرتھ سے تعلق رکھنے والی خاتون جوئے ملن کی سونگھنے کی حس اتنی تیز ہے کہ وہ اس کی مدد سے پارکنسنز کے مرض کی تشخیص باآسانی کر سکتی ہیں۔ پارکنسنز کے مرض سے لوگ صحیح طرح چل، بول یا سو نہیں سکتے، اس مرض کا کوئی علاج یا حتمی تشخیصی طریقہ نہیں ہے لیکن پہلی بار جوئے نے اپنے شوہر میں اس مرض کی تشخیص 6 سال پہلے ہی کرلی تھی۔ ان کاکہنا ہے کہ ان کے شوہر کے بدن کی اچانک مہک بدل گئی جسے بیان کرنا مشکل ہے تاہم یہ اچانک ہونے والی تبدیلی بعد میں رفتہ رفتہ بدلتی چلی گئی لیکن وہ اس مہک کو کبھی کبھار ہی سونگھ پاتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوئے اس مہک کو پارکنسنز سے تب ہی منسلک کر پائیں جب انہوں نے برطانیہ کی ایک خیراتی تنظیم کی رکنیت حاصل کی اور ایسے لوگوں سے ملیں جن سے بھی یہ خاص مہک آتی تھی۔
اتفاق سے جوئے نے ایک سیمینار کے دوران اس بات کا ذکر کچھ سائنسدانوں کے سامنے کیا جنہوں نے ان کی اس بات میں بہت دلچسپی ظاہر کی۔ ایڈنبرا یونیورسٹی نے ان پر تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا جس دوران جوئے نے کئی درست جواب دیئے۔ ڈاکٹر ٹیلو کوناتھ ایڈنبرا یونیورسٹی میں حیاتیاتی سائنس کے اسکول سے منسلک ہیں اور وہ پہلے سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جن سے جوئے نے شروع میں بات کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جوئے پر تجربہ کرنے کے لیے ہم نے پارکنسنز میں مبتلا چھ لوگوں کو بلایا۔ اس کے علاوہ ہم نے اس مرض سے محفوظ 6 لوگوں کو بھی بلایا تھا اور انہیں ٹی شرٹس پہنائی گئیں اور پھر واپس لے کر انھیں تھیلیوں میں ڈال کر ان کی شناخت کی۔ جوئے نے ہمیں یہ بتانا تھا کہ کون سا شخص پارکنسنز سے متاثر تھا اور کون سا نہیں اور انہوں نے 12 میں سے 11 درست جواب دییے تھے جس سے ہم بہت متاثر ہوئے تھے۔
ایک شخص جس کے بارے میں جوئے کا کہنا تھا کہ اسے یہ بیماری ہے لیکن وہ نہیں مانا تاہم اس تجربے کے 8 ماہ بعد اس شخص نے بتایا کہ اسے پارکنسنز کی تشخیص کی گئی تھی اس لیے جوئے نے 12 میں 11 نہیں بلکہ سارے لوگوں کی شناخت صحیح کی تھی جس سے سائنس دان ان سے اتنے متاثر ہوئے اور اس رجحان کی مزید چھان بین کرنا شروع کردی۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ پارکنسنز کے ابتدائی مراحل میں لوگوں سے ایک خاص مہک نکلتی ہے جو اس مرض سے منسلک ہے۔ سائنسدان چاہتے ہیں کہ وہ اس مہک کی وجہ ڈھونڈ کر اس کی شناخت ایک مولیکیول سے کر سکیں جس کے بعد وہ ایک سادہ تجربہ تخلیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔ جوئے امید کرتی ہیں کہ ان کی اس حادثاتی دریافت سے پارکنسنز بیماری کے ابتدائی مراحل میں مریضوں کی زندگی پر خاصا مثبت اثر پڑ ے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…