کینبرا(این این آئی)آسٹریلیا کے رائل میلبورن ہسپتال نے دماغ کے کینسر لوگریڈ گلیوما (ایل جی جی )کے علاج کے لئے نئی دوا کے پہلے کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے آگاہ کر دیا ، جو بہت حوصلہ افزا قرار دیئے گئے ہیں ۔چینی میڈیا کے مطابق رائل میلبورن ہسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پہلا کلینیکل ٹرائل ہے جو جدید برین پیری آپریٹو پلیٹ فارم کے ذریعے کیا گیا ہے۔ ایل جی جی دماغ کے کینسر کی سست رفتار سے پھیلنے والی قسم ہے جو مریضوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہوتے ہیں۔یہ بیماری آئی ڈی ایچ نامی جین میں مخصوص تبدیلی (میوٹیشن)کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، ا س کا موجودہ علاج محدود ہیں اور طویل عرصے سے اسے لاعلاج سمجھا جاتا رہا ہے۔
محققین کے مطابق ایل جی جی میں ان جینیاتی تبدیلیوں کی دریافت اور ان کے علاج کے لیے ایک نیا اور جدید طریقہ علاج مستقبل کے لیے امید کی کرن ہے۔پائلٹ سٹڈی میں Safusidenib نامی کھانے والی دوا کا تجربہ کیا گیا، جو میوٹیشن کا شکار آئی ڈی ایچ ون جین کو ہدف بناتی ہے۔ آسٹریلیا کے معروف طبی اداروں کے محققین نے علاج سے پہلے اور بعد میں ایل جی جی کے رسولی کے نمونوں پر اس دوا کے اثرات کا مشاہدہ کیا جس کے نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں،یہ بنیادی مطالعہ طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع کیا گیا ہے۔رائل میلبورن ہسپتال میں نیوروسرجری کی ڈائریکٹر اور اس ٹرائل کی مرکزی محقق، کیٹ ڈرمنڈ نے کہا کہ یہ ٹرائل دماغی کینسر کے علاج میں نئے امکانات پیدا کرتا ہے اور مریضوں کے لیے امید افزا ہے۔ میلبورن کے پیٹر میک کالوم کینسر سینٹر کے ماہر آنکولوجی اور اس تحقیق کے سینئر مصنف جم وائٹل نے کہا کہ دوسرے کینسرز میں پیری آپریٹو ٹرائلز عام ہیں، جہاں علاج سے پہلے اور بعد میں بایوپسی لی جاتی ہے تاکہ دوا کے اثرات کو پرکھا جا سکے، لیکن نیوروسرجری کی پیچیدگی کے باعث دماغی کینسر میں یہ پہلی بار استعمال ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی تحقیق نے BrainPOP کو ایک محفوظ اور موثر پلیٹ فارم ثابت کیا ہے جو دماغ میں دوا کے تفصیلی اثرات ظاہر کرتا ہے، ذاتی نوعیت کے علاج کے فیصلے ممکن بناتا ہے اور ان مریضوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔