منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائداعظم کو پاکستان کے بدلے کیا آفر دی تھی؟ حیران کن انکشافات جانیے

datetime 13  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کتاب “لارڈ ماؤنٹ بیٹن اینڈ پارٹیشن آف انڈیا” کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہم انکشاف کیا ہے، جس میں قیامِ پاکستان سے قبل قائداعظم محمد علی جناح کو دی گئی ایک غیر معمولی پیشکش کا ذکر موجود ہے۔جیونیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ کتاب میں شائع شدہ شواہد کے مطابق لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ وہ وائسرائے کی حیثیت سے پاکستان کے قیام کے مخالف تھے کیونکہ وہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔

حامد میر کے مطابق، کتاب میں درج ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی کی خواہش پر قائداعظم کو متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی، تاہم جناح صاحب نے اس تجویز میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ ماؤنٹ بیٹن کا کہنا تھا کہ انہوں نے قائداعظم کو راضی کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے اور بالآخر جناح اپنے مقصد میں سرخرو ہوئے۔کتاب کے مطابق، قائداعظم نے وزیراعظم بننے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ انہیں “ہندو راج” کے قیام کا خدشہ تھا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ سب کچھ گنوا سکتے ہیں لیکن ہندو راج کا حصہ نہیں بنیں گے۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مزید اعتراف کیا کہ اگر جناح صاحب کا انتقال دو سال پہلے ہو جاتا تو پاکستان کا قیام ممکن نہ ہوتا۔ ان کے بقول، قائداعظم وہ واحد رہنما تھے جنہوں نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا اور وہ ان کے سامنے ہار گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…