جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے بھارت کے جدید ترین لڑاکا طیارے کو کیسے مار گرایا؟ برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ سامنے آ گئی

datetime 2  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد /لندن(این این آئی)پاکستان نے بھارت کے جدید ترین لڑاکا طیارے کو کیسے مار گرایا؟ اس حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ سامنے آ گئی۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی ساختہ پی ایل 15 میزائل سے متعلق بھارتی انٹیلی جنس کی ناکامی بھارتی طیارے رافیل کے گرنے کا سبب بنی۔7 مئی کی نصف شب پاکستان ایئر فورس آپریشن روم میں سرحد پار بھارت میں درجنوں دشمن طیاروں کی پوزیشنیں دیکھی گئیں۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھارتی حملے کے پیشِ نظر کئی دنوں سے آپریشن روم میں موجود تھے، بھارتی طیاروں کی نقل و حرکت دیکھنے کے بعد ایئر چیف نے چینی ساختہ جے 10 سی طیارے روانہ کرنے کا حکم دیا۔

سربراہ پاک فضائیہ نے خاص طور پر بھارت کے رافیل طیاروں کو نشانہ بنانے کا حکم دیاپاک بھارت جنگ سے متعلق برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ایئر چیف نیحکم دیا کہ بھارت کے رافیل طیارے کو ٹارگٹ کیا جائے۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایئر چیف ظہیر بابر سدھو کے احکامات سے متعلق پاک فضائیہ کے سینئر افسر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کہا کہ رافیل ہی چاہیے۔پاکستانی ایئر چیف نے چینی ساختہ جے ٹین سی (Jـ10C) کے ذریعے بھارتی رافیل گرانے کا حکم دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 مئی کی شب پاکستان بھارت کے درمیان جنگ میں 110 طیاروں نے حصہ لیا، اس لڑائی کو دہائیوں میں دنیا کی سب سے بڑی فضائی جھڑپ تصور کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان نے بھارت کا رافیل طیارہ مار گرایا۔پاک فضائیہ نے رافیل طیارے کو 200 کلو میٹر دور سے نشانہ بنایا، رافیل طیارے کی تباہی کے بعد فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی کے شیئرز گر گئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ناکامی کے باعث بھارتی پائلٹس کو غلط فہمی ہوئی۔برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ایل 15 میزائل کی رینج بھارتی اندازوں سے کہیں زیادہ نکلی۔رافیل طیارے کی تباہی نے مغربی ساختہ جنگی ہتھیاروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے، پاکستان نے اس جنگ میں کامیاب الیکٹرانک وار فیئر حملے کا دعویٰ کیا تھا۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان بھارت جنگ کے بعد کئی ممالک کی جانب سے چینی لڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی لی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…