منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی میں جرگے کے فیصلے پر خاتون کا قتل،رکشہ ڈرائیور وعدہ معاف گواہ بن گیا

datetime 1  اگست‬‮  2025 |

راولپنڈی (این این آئی)جرگے کے فیصلے پر خاتون کے قتل کیس میں رکشہ ڈرائیور وعدہ معاف گواہ بن گیا جبکہ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 4روز کی توسیع کردی گئی۔جمعہ کو غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون سدرہ بی بی کے قتل کیس پر سماعت ڈیوٹی سول جج ثمرہ وحید نے کی، پولیس نے گرفتار 6ملزمان کو عدالت پیش کیا اور عدالت سے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے وہ تکیہ برآمد کرنا باقی ہے جو خاتون کو قتل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

عدالت نے پولیس کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ملزمان مانی گل، عرب گل، ظفراللہ، عصمت اللہ، ضیا الرحمن اور صالح محمد عرف سلیم گل کو 4روزہ جسمانی ریمانڈ پر واپس پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور 4جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے سیاہ کپڑوں سے چہرہ ڈھانپنے پر استفسار کیا جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے اور چہروں کو میڈیا سے چھپانے کے لیے ڈھانپا گیا ہے۔ عدالت نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کے چہروں سے نقاب ہٹانے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں وکلائے صفائی کو مقدمے کی فائل کا مطالعہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ رکشہ ڈرائیور خیال محمد نے عدالت کے روبرو دفعہ 164کے تحت اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق سدرہ بی بی کی لاش ملزم مانی گل کے لوڈر رکشے میں منتقل کی گئی، جبکہ خیال محمد نے ابتدائی طور پر مرکزی ملزمان کے ساتھ تعاون کیا۔عدالت نے رکشہ ڈرائیور کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا جب کہ 6دیگر ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…