منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بارشوں کا سلسلہ پھر شروع

datetime 29  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث عوام خصوصاً بچے مختلف موسمی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے اور یہ سلسلہ 31 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقوں بشمول گلگت، سکردو، ہنزہ اور شگر میں 28 سے 31 جولائی کے دوران موسلا دھار بارشوں کی توقع ہے۔نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے ممکنہ سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق آزاد کشمیر کے اضلاع مظفرآباد، وادی نیلم اور باغ میں بھی شدید بارشوں کی توقع ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلابی واقعات میں 8 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ 21 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 28 جون سے اب تک مجموعی طور پر 279 افراد بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔مزید یہ کہ ایک ماہ کے دوران ان حادثات میں 676 شہری زخمی ہوئے، جبکہ 1,553 گھروں کو نقصان پہنچا۔ اس دوران 374 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے دیہی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے رابطے میں رہیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے تیار رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…