ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

برطانوی خاتون کی انسانیت کےلئے قابل تقلید مثال

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈ یسک )سوشل میڈیا کا ہماری زندگی کے معاملات پر کتنا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ اس کی ایک مثال ہے برطانیہ کی ایک ایسی خاتون جس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک اپیل سے متاثر ہو کر ایک اجنبی عورت کو اپنا ایک گردہ عطیہ کر کے انسانیت کی ایک مثال قائم کی ہے۔چھبیس سالہ اسٹیسی تین چھوٹے بچوں کی ماں ہے وہ گردوں کے ایک دائمی مرض میں مبتلا تھی اور گردوں کے فیل ہو جانے کی وجہ سے سخت علیل اور زیادہ چلنے پھرنے سے معذور تھی۔اسٹیسی کے والد کی جانب سے فیس بک پر گردے کے عطیہ کی اپیل کی گئی جس کو پڑھنے کے بعد لوئیس جو خود دو بچوں کی ماں ہیں انھوں نے اسٹیسی کو اپنا ایک گردہ عطیہ کرنے کی پیشکش کی۔اسٹیسی کے والد ڈیرن نے مایوسی کی حالت میں اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کی ایک کوشش کے طور پر یہ فیس بک پر پیغام شائع کیا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو میری بیٹی کی مدد کرنے کے لیے ایک گردہ عطیہ کرنا چاہتا ہے، اسے جتنی جلدی ممکن ہو سکے گردوں کی پیوند کاری کی ضرورت ہے۔اگر اسے گردے کا عطیہ نہیں ملتا تو شاید زندگی بھر اسے ڈائلیسسز کی ضرورت پڑتی اس کے ماں باپ اسٹیسی کے لیے مناسب عطیہ دہندگان نہیں تھے جبکہ عطیہ کے خواہش مند افراد کی فہرست میں اسے اوسطاً تین برس کا انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ خاندان والوں کو ڈر تھا کہ اسٹیسی اتنا طویل انتظار نہیں کر سکتی ہے لیکن یہ اسٹیسی کی خوش بختی تھی کہ اسے لوئیس جیسی نیک دل خاتون کی طرف سے گردہ کا تحفہ مل گیا، جس کے بعد نیو کاسل کے فری مین اسپتال میں گردے کی پیوند کاری کا آپریشن کامیاب رہا۔لوئیس کا کہنا تھا کہ اس روز میں اور میرے شوہر رات کو کھانے کے بعد صوفے پر بیٹھے تھے اور ہم فیس بک دیکھ رہے تھے کہ میری نظر اس اپیل پر پڑی اور میں نے طے کر لیا کہ میں اس لڑکی کی مدد کر سکتی ہوں تاہم 13 ماہ تک مختلف ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد اسٹیسی سے لوئیس کا گردہ میچ کر گیا اور ڈاکٹروں نے لوئیس کو ایک مناسب عطیہ دہندہ قرار دے دیا۔لوئیس نے بتایا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ کیا وہ تمھارے خاندان سے ہے یا دوستوں میں سے ہے لیکن، میں انھیں بتاتی تھی کہ وہ ایک اجنبی لڑکی ہے تو وہ حیران ہو جاتے تھے۔انھوں نے کہا کہ جیسے جیسے آپریشن کا وقت قریب آ رہا تھا مجھے اپنی قربانی سے کچھ ڈر لگ رہا تھا کہ اگر مجھے بے ہوشی کے بعد دوبارہ ہوش نہیں آیا تو میرے بچے اپنی ماں سے محروم ہو سکتے ہیں لیکن پھر میں سوچتی تھی کہ میں یہ قدم ایک تین سالہ چھوٹے بچے کی ماں کو بچانے کے لیے اٹھا رہی ہوں۔اسٹیسی نے ذرائع سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیرت انگیز واقعہ ہے میرے پاس انھیں شکریہ کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں کیونکہ کسی کو اپنا ایک عضو تحفہ کرنے کے لیے بہت ہمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسٹیسی نے کہا کہ مکمل طور پر اجنبی ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے کو بہت عزیز رکھتے ہیں۔ایک برطانوی ٹی وی چینل فائیو پر بدھ کے روز ایک شو میں اسٹیسی اور لوئیس کی کہانی نشر کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…