پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

حمیرا اصغر کی والدہ کا ’’نامناسب‘‘ بیان؛ شمعون عباسی نے آئینہ دکھا دیا

datetime 21  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)معروف اداکار شمعون عباسی نے حال ہی میں انتقال کر جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر علی کی والدہ کی جانب سے کراچی کے شہریوں پر لگائے گئے الزامات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی پر انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے، مگر اصل ذمہ داری تو خاندان اور والدین کی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خبر رکھیں۔یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا کی والدہ نے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ ان کی بیٹی کے اپارٹمنٹ سے چیخوں کی آوازیں آتی رہیں، لیکن کسی نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ انہوں نے کراچی کے لوگوں کو ’’بے حس‘‘ اور ’’بے درد‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی تھی، اور یہاں تک کہنے سے گریز نہیں کیا کہ وہ “کراچی کے لوگوں پر لعنت بھیجتی ہیں۔”تاہم ان کے اس سخت بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔

بہت سے افراد نے سوال اٹھایا کہ جب والدین نے خود بیٹی سے لاتعلقی اختیار کی، حتیٰ کہ میت لینے سے بھی انکار کیا، تو پھر عوام کو الزام دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟اسی حوالے سے اداکار شمعون عباسی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ والدین کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب حمیرا نے مدد کی اپیل کی تو والدین نے خود اسے نظرانداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مالی مشکلات تھیں تو کم از کم کوئی قریبی رشتہ دار کراچی بھیجا جا سکتا تھا یا پولیس سے تعاون لیا جا سکتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے والدین نے کوئی قدم نہ اٹھایا اور الٹا سارا الزام شہر کے شہریوں پر دھر دیا۔شمعون کا کہنا تھا: “بیٹی آپ کی تھی، اس کی خیر خبر لینا آپ کی ذمہ داری تھی۔

دکھ کے لمحے میں دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا آسان ہوتا ہے، لیکن کیا ہم نے اپنی ذمے داری پوری کی؟”اداکار نے مزید بتایا کہ جب یہ خبر منظرِ عام پر آئی تو کئی شوبز شخصیات اور سماجی ادارے اس معاملے کو سنبھالنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ اگر والدین میت لینے سے انکار کرتے، تو حمیرا کی تدفین کے تمام انتظامات کا بندوبست ان اداروں نے کر لینا تھا، اور اس حوالے سے عملی اقدامات بھی ہو رہے تھے۔آخر میں شمعون عباسی نے کہا کہ افسوس کی اس گھڑی میں ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے، کیونکہ تنہائی میں جان سے جانے والے افراد کی اصل ذمہ داری ان کے قریبی رشتہ داروں اور خاندان پر ہوتی ہے، نہ کہ پورے شہر پر۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…