پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

طوطے کی طرح نظرآنے کے جنون میں ایک شخص نے اپنے کان ہی کٹوا دیئے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) کبھی کبھی انسان شہرت اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ہی جسم کے ساتھ ظلم کر بیٹھتا ہے ایسا ہی کچھ کیا امریکا میں شہرت حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا شخص نے اور اس نے طوطے کی طرح نظرآنے کی کوشش میں چہرے پر کئی رنگ برنگے ٹیٹوز بنوائے لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس نے اپنے کان کٹوا دیئے۔
امریکا کا رہائشی جنونی شخص ٹید رچرڈ چہرے کے نت نئے ڈیزائن بنوانے میں پہلے ہی خاصی شہرت رکھتا ہے لیکن گزشتہ روز تو اس نے بالکل ہی ایک نیا کارنامہ انجام دے کر لوگوں کی بھر پور توجہ حاصل کرلی۔ رچرڈ نے طوطے کی سی شکل اپنانے کے لیے اپنے چہرے پر 110 رنگا رنگ ٹیٹوز بنوائے، 50 جگہ سے چھدوایا اور زبان کو 2 حصوں میں تقیسم لیکن اس نے یہیں بس نہیں کیا بلکہ اپنے دونوں کان بھی کٹوا لیے تاکہ وہ طوطا ہی لگے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رچرڈ نے ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے ایک اور فیصلہ کیا ہے اور وہ ایسے سرجن کی تلاش میں ہے جو اس کی ناک کو طوطے کی طرح موڑ کر لمبی بنادے۔ اس کارنامے پر رچرڈ کا کہنا ہے کہ اس کا یہ روپ اسے بے حد پسند آیا ہے اور اب تک کے دھارے گئے تمام روپ میں یہ سے سب سے بہتر ہے کیوں کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ جتنا ممکن ہوسکے اپنے پیارے طوطے کی طرح لگے۔
رچرڈ کا کہنا تھا کہ اس کے بڑے کان ویسے بھی لوگوں کو اچھے نہیں لگتے تھے اور وہ کافی عرصے سے ان کا مذاق اڑتا ہوا دیکھتا رہا ہے لیکن اس نے یہ کان اس خرابی سے نہیں بلکہ اپنے طوطے کی محبت میں کاٹے ہیں لیکن کان کٹنے کے باوجود وہ اپنے پیارے طوطے کی آواز سن سکتا ہے اور اسکے ساتھ چیٹنگ بھی کرتا ہے۔ رچرڈ ایک جوتے بنانے والی کمپنی میں ملازم ہے اور اس نے سب سے پہلے 1976 میں پہلا ٹیٹو اپنے جسم پر بنایا پھر تو جیسے اس کو اس کا جنون ہی ہوگیا اور اب اس کا سارا جسم اور ہاتھ ٹیٹوز اور مختلف چھیدوں سےبھرے ہوئے ہیں جب کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سرجری کے ذریعے مقناطیس لگوا رکھے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…