پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

انسانی دماغ کا سائز اس کی ذہانت میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا، سائنس دان

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )عام طور پر تصور کیا جاتا ہے جن لوگوں کا دماغ بڑا ہوتا ہے وہ زیادہ ذہین اور عقل مندہوتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کا سائز نہیں بلکہ اس کی بناوٹ اس کی ذہانت کا پتا دیتی ہے۔یونیورسٹی آف ویانا میں سائنس دانوں کی انٹرنیشنل ٹیم نے دماغ کے سائز اور بناوٹ پر تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ انسانی دماغ کا سائز کسی ایک انسان کے دوسرے سے زیادہ ذہین ہونے میں انتہائی کم کردار ادا کرتا ہے۔ اس تحقیق سے قبل سائنس دان 1836 میں اعضا کے جرمن ریسرچر فریڈرچ کی تحقیق کو ہی درست مان رہے تھے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انسانی دماغ کے سائز اور اس کی صلاحیتوں اور قابلیت کا آپس میں گہرا تعلق ہے تاہم اب اس تحقیق سے اس نظریئے کو غلط ثابت کرتے ہوئے ایم آر آئی اسکین اور آئی کیو ٹیسٹ سے نیا نظریہ سامنے لایا گیا ہے جس کے دوران انٹرنیشنل ٹیم نے 8 ہزار افراد کے لیے گئے 148 نمونوں اور دماغ کے حجم اور آئی کیو کا موازنہ کیا۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ مرد ہو یا عورت، دونوں کے آئی کیو اور دماغی حجم کے درمیان بہت ہی کمزور تعلق ہے یعنی دماغ کسی بھی انسان کی کارگردگی میں بہت ہی معمولی کردار ادا کرتا ہے۔ اس تحقیق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے تحقیق کے اہم رکن جیکب پیٹس چنگ کا کہنا تھا کہ سائز سے زیادہ دماغ کی بناوٹ آئی کیو کی حیاتیاتی بنیاد میں اہم کردار ادا کرتی ہے جب کہ سائز مددگار میکنزم کے طور پر اپنا کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مثال کے طور پر کسی بھی وہیل مچھلی کے دماغ میں سب سے بڑا سینٹرل نروس سسٹم موجود ہوتا ہے لیکن جب کنٹرول کا وقت آتا ہے تو اس کے اندر موجود اسکریو اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ مردوں کے دماغ کا سائز عورتوں کے دماغ سے بڑا ہوتا ہے تاہم جب دونوں کا آئی کیو کیا گیا تو دونوں کی کارگردگی میں کوئی فرق سامنے نہیں آیا بلکہ جن لوگوں کا دماغ بیماری میگلینسی فیلے کے تحت بہت بڑھ جاتا ہے ان کاآئی کیو لیول اوسط انسان سے بھی کم ہوتا ہے، ڈاکٹر پیٹس چنگ کا کہنا ہے کہ اسی لیے دماغ کی بناوٹ اہم بن کر کا سامنے آتی ہے جو انسانی کارگردگی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…