جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں کی سکالرشپس لے کر فرار ہو گئے

datetime 19  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب یونیورسٹی کے ایک اہم انکشاف میں معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی کے 12 اساتذہ نے کروڑوں روپے مالیت کی اسکالرشپ حاصل کی، مگر تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں واپس آ کر سروس انجام نہیں دی۔ ان افراد کو اب “مفرور” قرار دے دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ان اساتذہ سے رقوم کی واپسی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ محکموں کو خطوط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو بھی الگ سے درخواست کی جا رہی ہے تاکہ مفرور افراد کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیے جا سکیں۔

تفصیلات کے مطابق، یونیورسٹی کی جانب سے مجموعی طور پر 56 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔ ان میں سے 12 اساتذہ نے اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر یونیورسٹی میں ملازمت اختیار نہیں کی، حالانکہ معاہدے کے تحت انہیں پانچ سال یونیورسٹی کی خدمت کرنا لازم تھا، بصورتِ دیگر پوری رقم واپس کرنا تھی۔

مفرور قرار دیے گئے اساتذہ میں شامل افراد اور ان پر واجب الادا رقوم کچھ یوں ہیں:

فرح ستار (جی آئی ایس سینٹر): 70 لاکھ روپے

سید محسن علی (جی آئی ایس سینٹر): 1 کروڑ 40 لاکھ روپے

کرن عائشہ (انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز): 1 کروڑ روپے

رابعہ عباد (شعبہ ایم ایم جی): 90 لاکھ روپے

خواجہ خرم خورشید (آئی کیو ٹی ایم): 84 لاکھ روپے

شمائلہ اسحاق (ہیلی کالج آف کامرس): 1 کروڑ 61 لاکھ روپے

عثمان رحیم (سنٹر فار کول ٹیکنالوجی): 72 لاکھ روپے

سلمان عزیز (کالج آف انجینئرنگ): 90 لاکھ روپے

محمد نواز (جی آئی ایس): 72 لاکھ روپے

جویریہ اقبال (پی یو سی آئی ٹی): 60 لاکھ روپے

سیماب آرا (ایڈمنسٹریٹو سائنسز): 1 کروڑ روپے

سامعہ محمود: 1 کروڑ 16 لاکھ روپے

یونیورسٹی نے ان تمام افراد کو سروس سے فارغ کر دیا ہے، اور رقم کی واپسی کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…