اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ ایک سیارچہ، جس کا حجم تقریباً دس منزلہ عمارت کے برابر ہے، اب زمین سے ٹکرانے کے بجائے چاند سے ٹکرانے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق، جس سیارچے کو “2024 YR4” کا نام دیا گیا ہے، وہ 174 سے 220 فٹ کے درمیان قطر رکھتا ہے اور خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ 2032 میں زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔ تاہم، تازہ مشاہدات کی روشنی میں ماہرین نے یہ اندیشہ تقریباً ختم کر دیا ہے۔
ناسا کے مطابق، فروری 2025 کے اختتام تک کی گئی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا امکان نہایت کم، بلکہ تقریباً صفر کے قریب ہے۔
البتہ نئی ریسرچ اور تجزیے کے بعد سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ اب “2024 YR4” کے چاند پر گرنے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے، جو اب 1.7 فیصد سے بڑھ کر 3.8 فیصد ہو چکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ناسا کے جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور زمین سے دیکھنے والی دیگر طاقتور دوربینوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر دیے گئے ہیں۔
ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سیارچے کے چاند پر اثر انداز ہونے کے امکانات ابھی بھی محدود ہیں، لیکن اگر وہ چاند سے ٹکرا بھی گیا تو یہ چاند کے مدار یا گردش پر کسی قسم کا اثر نہیں ڈالے گا۔



















































