منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

جسٹس منصور علی شاہ نے اے ڈی آر کی اہمیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا

datetime 2  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے اے ڈی آر کی اہمیت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل کے معاشی فوائد نہایت اہم ہیں، ثالثی ایک کم خرچ، موثر اور خفیہ طریقہ کار کے طور پر نہ صرف ملکی عدالتوں کا بوجھ کم کرتی ہے بلکہ کاروباری پیداواری صلاحیت بھی بڑھاتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ثالثی کے ذریعے تنازعات کے جلد حل کا موقع ملتا ہے جس سے کاروبار میں تعطل کم ہوتا ہے، بین الاقوامی ثالثی کے فیصلوں کے نفاذ کی صلاحیت تجارت اور کاروبار کو مضبوط بناتی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ثالثی کا مستحکم اور قابل پیش گوئی تنازعات کے حل کا نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیتا ہے، ثالثی سے ملک بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک پرکشش مقام بن جاتا ہے۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا قانون اور انصاف کمیشن کی جانب سے تیار کردہ ایک نئے ثالثی ایکٹ کے مسودے کو 2مئی 2024ء کو وزارت قانون و انصاف کے ذریعے وفاقی حکومت کو پیش کیا گیا، یہ مسودہ 1940ء سے غیر تبدیل شدہ ثالثی کے پرانے نظام کو جدید بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ وفاقی حکومت قوم کے وسیع تراقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد نئے ثالثی قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے گی تاکہ عوام کو موثر اور جدید تنازعات کے حل کا نظام فراہم کیا جا سکے۔جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے میں دفتر کو ہدایت کی ہے اس فیصلے کی ایک نقل اٹارنی جنرل کو بھیجی جائے، تاکہ متعلقہ وزارت کے ساتھ خط و کتابت اور یاد دہانی کے طور پر کام آئے۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…