پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کی آڑ میں 2ارب 40کروڑ کا فراڈ

datetime 1  جنوری‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)ایف بی آر کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ کسٹمز پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساتھ نے مینوفیکچرنگ بانڈ، ڈی ٹی آر ای، عارضی امپورٹ اور ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم کی آڑ میں 2 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کے فراڈ کا انکشاف کیا ہے۔میسرز قاضی سنجرانی انٹرپرائزز 4 برآمدی استثنا حاصل کرکے ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری میں ملوث پائی گئی ہے، کمپنی کی جانب سے برآمدات کے لیے استثنی اسکیموں کے تحت سیمنٹ سازی میں خام مال کے طور پر استعمال ہونے والے کلنکر کی بڑی مقدار اور پیک اشیا درآمد کرکے مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے میں ملوث پائی گئی۔ڈائریکٹر کسٹمز پوسٹ کلئیرنس آڈٹ ساتھ کے ڈائریکٹر شیراز احمد کے مطابق پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساتھ کی جانب سے مذکورہ کمپنی کا کسٹم وسیلز ٹیکس اعداد و شمار کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا اور فیکٹری کا فزیکل معائنہ بھی کیا گیا، جس میں بے قاعدگیوں کی تصدیق ہوئی۔

فیکٹری سے درآمد ہونے والے 4 لاکھ 63 ہزار 334 میٹرک ٹن کلنکر میں سے صرف 62 ہزار ٹن کلنکر برآمد ہو سکا۔بعد از کسٹمز کلئیرنس معائنے کے دوران اس امر کی نشاندہی ہوئی کہ 3 ارب 30 کروڑ روپے مالیت کا 3 لاکھ 96 ہزار میٹرک ٹن کلنکر درآمدکنندہ فیکٹری سے غائب تھا، جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ درآمد کنندہ کمپنی کی جانب سے برآمدی مصنوعات کے لیے درآمد کیے جانے والے کلنکر کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کر دیا گیا ہے۔

شیراز احمد نے بتایا کہ مذکورہ کمپنی غائب ہونے والے کلنکر سے متعلق استفسار پر کوئی معقول وضاحت دینے میں ناکام رہی اور کمپنی کی جانب سے گوادر ڈرائی پورٹ پر 15ہزار ٹن کلنکر کے ذخائر کی موجودگی سے متعلق دعوی بھی غلط ثابت ہوا۔کمپنی نے مینوفیکچرنگ بانڈ کے ذریعے 36 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ڈیوٹی وٹیکسوں کی چوری کی، ایس آر او 492 کے عارضی درآمدی سہولیات کے ذریعے 9 کروڑ 10لاکھ روپے کی چوری کی اور ایکسپورٹ فیسیلٹیشن اسکیم کے غلط استعمال کے ذریعے 1 ارب روپے کی ڈیوٹی وٹیکس چوری کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…