پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کے رہنما محبوب ابڑو نے اہل خانہ کیلئے سیکورٹی مانگ لی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق یونین کونسل ناظم حیدرآباد محبوب ابڑو نےصوبائی وزیر جام خان شورو اورسندھ پولیس حکام کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی اور اہل خانہ کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر چیف جسٹس پاکستان، سندھ ہائیکورٹ، رینجرز حکام اور محکمہ داخلہ سندھ سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کردی۔ محبوب ابڑو نے چیف جسٹس پاکستان،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، ڈی جی رینجرزکو خط لکھا ہے، جس کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے، انہوں نے آئین پاکستان کے مختلف آرٹیکلز کا حوالہ دیا ہے۔جنگ رپورٹر امداد سومرو کے مطابق انہوں نے خط میں درخواست کی ہےکہ انہیں اور انکے اہل خانہ کی جان کو خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ ان کی پیپلزپارٹی کے ذوالفقار مرزا گروپ سے وابستگی ہے اور اسی وجہ سے حکمراں جماعت انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی درپے ہےاور ذوالفقار مرزا سے ان کی وابستگی ہونے کے بعدان پر 15سے زائد جعلی فوجداری مقدمے بنائے گئے ، جن میں بھتہ خوری، پولیس مقابلے، اقدام قتل، اغواءبرائے تاوان ودیگر مقدمات شامل ہیں، اور سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کے باوجود پولیس حکام انہیں اپنے خلاف درج مقدمات کی فہرست دینے کو تیار نہیں ہیں۔ محبوب ابڑو نے اپنی درخواست میں صوبائی وزیر جام خان شورو، ایس ایس حیدرآباد ، ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی، ڈی ایس پی اسلم لانگاہ دیگر پر اپنے 20سالہ بیٹے سرمد کواغواءکرنے، انکے گھر سے قیمتی اشیائ لوٹنے، پانچ گاڑیاں ضبط کرنےاور کیبل کے کاروبار کے پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی اور تمام معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کسی وفاقی ادارے سے کرانے کی درخواست کی۔ دی نیوز سے بات کرتے ہوئے محبوب ابڑو کا کہنا تھاکہ ذوالفقار مرزا سے وابستگی کے باعث حکمراں جماعت انہیں اور انکے اہل خانہ کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک صوبائی وزیر اور پولیس کے اعلیٰ حکام کی ایما ءپرانکے خلاف 15سے زائد جعلی مقدمات بنائے گئے، انہوں نے کہاکہ2013سے قبل میرے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا اور جیسے ہی میں نے ذوالفقار مرزا سے وابستگی اختیار کرکے اپنی ہی پارٹی کی کرپشن اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی تومیرے خلاف جعلی مقدمے درج کرنے شروع کردئیے گئے۔ محبوب ابڑو نے سندھ حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حیدرآباد پولیس کے ڈی ایس پی اسلم لانگاہ نے دی نیوز کو بتایاکہ محبوب ابڑو کی جانب سے لگائے جانیوالے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور حیدر آباد پولیس کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ محبوب ابڑو ایک مجرم اور بدنام زمانہ بھتہ خور ہیںاور وہ حیدرآبادپولیس کو 80سے زائد مقدمات میں مطلوب ہیں۔ صوبائی وزیر جام خان شورو کاکہنا ہےکہ محبوب ابڑو کے تمام دعویٰ جھوٹے ہیں، انہوںنےکہاکہ ایسے دور میں جب میڈیا اور عدلیہ آزادہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی کے خلاف جعلی کیسز درج کیے جاسکے۔ تاہم ایس پی راشد ہدایت اس نمائندے کی کالز وصول کرنے اور ٹیکسٹ میسجزکا جواب دینے سے اجتناب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…