اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

میاں بیوی کا خوبصورت رشتہ جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے برباد ہو گیا’ مولانا طارق جمیل

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

فیصل آباد(این این آئی)بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی اسلامک اسکالر مولانا طارق جمیل نے مشترکہ خاندانی نظام کی مخالفت کر دی جس پر مختلف طبقوں کی طرف سے مختلف تبصرے جاری ہیں۔مولانا طارق جمیل کے ایک بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں اْنہیں ہمارے معاشرے میں عام مشترکہ خاندانی نظام کے خلاف بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔اْنہوں نے کہا ہے کہ اس کائنات کا سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے جس کی اہمیت والدین اور اولاد سے بھی زیادہ ہے۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہ اتنا خوبصورت رشتہ جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔کچھ صارفین مولانا طارق جمیل کی رائے سے اتفاق کرتے جبکہ کچھ صارفین اختلاف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ایک صارف نے مولانا صاحب کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام پر پابندی کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ بالکل صحیح کہا، اسلام میں مشترکہ خاندان کا کوئی تصور نہیں ہے، ہم نے اس نظام کو ہندوستانی ثقافت سے اپنایا ہے۔

دوسری جانب ایک صارف نے مولانا طارق جمیل کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ والدین سے زیادہ اہم دنیا میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ ہر نظام کے اپنے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات ہوتے ہیں اس طرح مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا اس وقت تک نقصان دہ نہیں جب تک کہ خاندان کا ہر فرد اپنی حدود میں رہے اور اپنے خاندان میں شامل ہونے والے نئے ممبر کو ایک محفوظ جگہ فراہم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…