جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کوئی شک نہیں 26 اکتوبر کو اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہوں گے، بلاول

datetime 18  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ کوئی شک نہیں 26 اکتوبر 2024 کو اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہوں گے۔بلاول بھٹو نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کوشش ہوگی کہ اٹھارہویں ترمیم میں جوڈیشل اپائنٹمنٹ کا جو طریقہ رکھا تھا اسے بحال کیا جائے، اسے حاصل کرنے کے لیے شاید حکومت کا کوئی پوائنٹ ماننا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف اپنا اپنا ڈرافٹ تیار کررہے ہیں، ایک دوسرے سے شیئر کریں گے اور کوشش کریں گے کہ ایک متفقہ ڈرافٹ پر اتفاق کرلیں۔پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ نہ پارلیمنٹ صحیح چل رہی ہے نہ عدالتی سسٹم، شہید بھٹو کے قتل کیس میں انصاف کیلئے 50 سال انتظار کرنا پڑا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 15فیصد سیاسی کیس ہیں لیکن 90 فیصد وقت لے جاتے ہیں، عام آدمی کا انصاف کا کیس سالہا سال تعطل میں رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں بھی عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا، پاکستان میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے، میثاق جمہوریت کے تحت ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن رہ گیا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارٹی منشور کے مطابق نیب اور عدالتی اصلاحات رہ گئیں، پیپلز پارٹی چاہتی ہے میثاق جمہوریت کا وعدہ پورا کرے۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ کون سی دنیا میں عدالت کہتی ہے ٹماٹر، آلو کی قیمت درست کریں گے، دنیا میں کون سی عدالت ڈیم بناتی ہے، یہ سب کام عدالت کرے گی تو عام آدمی کو انصاف کون دلوائے گا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دنیا میں کون سا جج کہتا ہے کراچی میں پیدا ہوا اور ویسا ہی کراچی دیکھنا چاہتا ہوں۔بلاول نے کہا کہ ہماری کوشش تھی پی ٹی آئی اپوزیشن میں مثبت کردار اپنائے، پی ٹی آئی قیادت کے بیان نے اپوزیشن جماعتوں اور ہم سے بات چیت کو سبوتاڑ کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے ایسا خوفناک بیان دیا جس میں توہین عدالت، بغاوت کا جرم ہے، پی ٹی آئی نے آج تک وضاحت نہیں دی کہ یہ بیان دیا یا نہیں دیا، ہمارے اور ن لیگ کیلئے مشکل ہے کہ پی ٹی آئی سے ان کی ان پٹ کے ساتھ آئینی ترمیم پر بات کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…