جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

سینٹ،سانحہ منیٰ میں شہید اور لاپتہ پاکستانیوں کے معاملے پر اپوزیشن کا شدید احتجاج،واک آﺅٹ

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سینٹ میں اپوزیشن اراکین نے سانحہ منیٰ کے بارے میں حکومت کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر ایوان سے واک آﺅٹ کیا۔ سینیٹر اعتزاز احسن اور اپوزیشن نے دیگر ارکان نے سانحہ منیٰ پر وفاقی وزیر پرویز رشید کی جانب سے حکومتی کارکردگی بیان کرنے اور سعودی عرب میں شہید ہونے والے اور لاپتہ پاکستانیوں کے بارے میں مفصل جواب نہ دینے پر ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے اپوزیشن اراکین کو منانے کیلئے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا اور سینیٹر پرویز رشید کو بجھوایا گیا مگر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں واپس آنے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل سانحہ منیٰ میں شہید اور لاپتہ پاکستانی حجاج کرام کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنے پر اراکین سینٹ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حاجیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ابھی تک سینکڑوں شہدا اور لاپتہ پاکستانیوں کے بارے میں ان کے لواحقین پریشانی کا شکار ہیں سینٹ میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ سانحہ منیٰ میں 300 کے قریب پاکستانی شہید اور لاپتہ ہوئے ہیں اور ان کا بھی تک پتہ نہیں چل رہا ہے یہ حکومت کی بے حسی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے سانحہ منیٰ میں جاں بحق افراد کی تدفین کر دی ہے اور یہاں پر ورثاءابھی تک اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ لاپتہ پاکستانیوں کے ورثاءاپنے خرچے پر سعودی عرب جانے کے خواہشمند ہیں مگر انہیں ویزہ نہیں مل رہا ہے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افرد اپنے خاندانوں کیلئے ساری زندگی کی اذایت بن جاتی ہے۔ حکومت پاکستان نے معاملے کو پیمرا کے ذریعے دبانے کی کوششیں کی ہیں اور اس وجہ سے میڈیا چینل نے معاملے کو پس پشت ڈال دیا ہے مگر ہم اس معاملے کو دبانے نہیں دینگے اور جب تک مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ہے اس وقت تک ہم حکمرانوں کو یاد دلاتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت بتائے کہ انہوں نے لاپتہ پاکستانیوں اور شہداءکے بارے میں کیا کیا ہے۔ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ حکومت شہدا کو پاکستان لانے اور لاپتہ حاجیوں کا پتہ لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ سینیٹر میر کبیر محمد نے کہا کہ سانحہ منیٰ میں جو حجاج شہید ہوئے ہیں یا لاپتہ ہیں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں 3 کارڈ دیئے جاتے ہیں اور ایک ہاتھ پر بینڈ باندھا جاتا ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ کارڈ یا ربن کہاں گئے ہیں یہ سعودی اور پاکستانی حکومت کی سستی کی وجہ سے ہوا ہے لگتا یہ ہے کہ سعودی حکومت نے تمام شہدا کو دفن کر دیا ہے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سانحہ منیٰ کے بارے میں ہمیں معلومات پاکستان سے ملی ہیں یہ ایک بہت بڑا حادثہ تھا اس سلسلے میں قونصل جنرل سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ 2 ہزار سے زیادہ حاجی شہید ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے انتظامات پہلے کی طرح شاندار تھے آنے اور جانے کے راستے الگ الگ ہیں انہوں نے کہا کہ تمام تر انتظامات کے باوجود کوئی نقص ہے جو منیٰ میں حجاج کرام آمنے سامنے ہوئے اور یہ حادثہ پیش آیا ہے سانحہ منیٰ کے بارے میں سعودی حکومت نے ایک کمیشن قائم کیا ہے ہمیں سعودی حکومت کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے اس موقع پر وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اس معاملے کے بارے میں تمام تر اعداد و شمار اور حکومتی اقدامات سے ایوان بالا کو مطلع کیا ہے انہوں نے کہا کہ حج انتظامات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے گزشتہ دو سالوں میں حکومت کی جانب سے حجاج کرام کیلئے جو انتظامات کئے گئے تھے وہ سب کے سامنے ہیں ماضی میں حجاج کرام نے بددعاﺅں کیلئے ہاتھ اٹھائے جبکہ ہمارے دور حکومت کو دعائیں دی گئیں انہوں نے کہا کہ سانحہ منیٰ پر پوری قوم غمزدہ ہے اور یہ پورے ایوان کا مسئلہ ہے سانحہ کے بعد وزیر مذہبی امور اب تک سعودی عرب میں مقیم ہیں جن افراد کو شناخت کیا گیا ان کی تصاویر ویب سائٹ پر موجود ہے حج سیزن کے خاتمے کے بعد شہید حاجیوں کے لواحقین کو سعودی عرب جانے کی اجازت ہو گی انہوں نے کہا کہ پیمرا کی جانب سے تمام ٹی وی چینلز کو ایک نرم درخواست کی گئی تھی کہ سانحہ منیٰ کے حوالے سے رپورٹوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مدنظر رکھا جائے اور ایسے الفاظ ادا نہ کئے جائیں جن سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات متاثر ہوں۔ا نہوں نے کہا کہ سعودی عرب جانے والے حجاج کرام ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہیں جس کے تحت سعودی عرب میں انتقال کرنے والوں کو وہیں پر دفن کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…