جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ، ہائیکورٹ ججز کو دھمکی آمیز خطوط ایک ہی جگہ سے موصول، تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری

datetime 4  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کی تفتیش اسلام آباد پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سمیت تمام اداروں کی جانب سے مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی اسلام آباد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز کو موصول خطوط کی تفتیش کر رہی ہے۔ابتدائی تفتیش کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کو خطوط ایک ہی جگہ سے بھیجے گئے، یہ خطوط سب ڈویڑنل پوسٹ آفس سیٹلائٹ راولپنڈی سے بھیجے گئے تھے۔

خطوط پر اسٹیمپ سب ڈویژنل پوسٹ آفس سیٹلائٹ ٹائون کی ہے، خطوط کے پوسٹ باکس کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے، سب ڈویژنل پوسٹ آفس سیٹلائٹ ٹاون کے عملے سے بھی تفتیش کی جار رہی ہے۔دوسری جانب اسلام آباد پولیس متعلقہ پوسٹ آفس کے تمام پوسٹ باکسز کے قریب نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز اکھٹی کر رہی ہے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی عمارتوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں سمیت اردگرد کے کیمروں کی بھی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی گئی ہے، ان فوٹیجز کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔واضح رہے کہ 2 اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 8 ججوں کو پاؤڈر بھرے مشکوک خطوط موصول ہوئے تھے جس میں ڈرانے دھمکانے والا نشان موجود تھے۔

عدالتی ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو مشکوک خطوط موصول ہوا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ انتظامیہ نے دہشتگردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔بعد ازاں گزشتہ روز 3 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ کے 4 ججز اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے 4 ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے کا انکشاف سامنے ا?یا تھا۔دھمکی آمیز خطوط لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام بھجوائے گئے تھے، یہ خطوط نجی کوریئر کمپنی کے ملازم نے موصول کروائے تھے، جسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

جبکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل کو یہ دھمکی آمیز خطوط یکم اپریل کو بھیجے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ چاروں خطوط میں پاؤڈر پایا گیا اور دھمکی آمیز اشکال بنی ہوئی تھیں، اِن چاروں ججز کو خطوط موصول ہونیکا مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں درج کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…