جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے،نوجوانوں نے پاکستانی پرچم لہرا دئیے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2015 |

سری نگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بے گناہ کشمیری شہریوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے  نوجوانوں نے ایک بار پھر پاکستانی پرچم لہراکر سکیورٹی فورسز کو مخمصے میں ڈال دیا بے گناہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا  درجنوں زخمی ¾ فوجی اہلکاروں نے یاسین ملک کو ساتھیوں سمیت حراست میں لے کر نظربند کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق پائین شہر کے نوہٹہ علاقے میں بے گناہ کشمیریوں کی گرفتاریوںکے خلاف نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ایک مرتبہ پھر پاکستانی پرچم لہرائے ۔ احتجاج مظاہرین نے فورسز پر سنگ باری کی جبکہ فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیلنگ کی۔فورسز اور مظاہرین کے مابین یہ سلسلہ کچھ وقت کیلئے جاری رہا جس کے نتیجے میں نوہٹہ اور اس کے گردونواح میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہر ایک مرتبہ پھر نوجوانوںنے پاکستانی پرچم لہرا کر سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو مخمصے میں ڈال دیا جبکہ اس موقع پرکئی نوجوانوںکے ہاتھوں میں بینر بھی تھے جن پر تحریک آزادی کشمیر کے حق میں نعرے درج تھے نوجوان گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فورسز نے نوجوانوںکو گرفتار کر کے مختلف تھانوںمیں نظر بند رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کشمیر کے حق میں آواز اٹھانے والوںکو بھی پابند سلاسل بنایا جارہا ہے ۔ اس موقعہ پر نوجوانوںنے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ اس موقعہ پر فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے احتجاج میں شدت لائی ۔احتجاجی نوجوانوں نے فورسز پر سنگباری کی اور فورسز نے نوجوانوںکو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ ٹیر گیس شلنگ کی ۔جامع مسجد اور اس کے گرد ونواح میں نوجوانوں اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کچھ وقفے تک جاری رہا ۔ دوسری جانب پولیس نے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ساتھیوں سمیت حراست میں لیا ۔ یاسین ملک کو اراکین کے ہمراہ اسوقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ زکورہ کے قریب پہنچے۔ پولیس نے ان کا راستہ روک لیا اور محمد یاسین ملک کو شوکت احمد بخشی،مشتاق اجمل، محمد صدیق شاہ، بشیر احمد کشمیری، پروفیسر جاوید، فیاض احمد،امتیاز احمد،محمد عرفان،بشارت احمد ،شاکر احمد،محمد امین اور محمد عبداللہ کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…