جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

چترال ، مارخور کی اس سیزن کے تیسری ہنٹنگ ٹرافی،امریکی شہری رابرٹ مایلز نے کشمیر مارخور کا شکار کرلیا

datetime 19  فروری‬‮  2024 |

چترال(این این آئی)چترال میں امریکی شہری نے کشمیر مارخور کا کامیاب شکار کیا،مارخور ہنٹنگ ٹرافی کا اس سیزن کا یہ تیسرا شکار ہے۔تفصیلات کے مطابق گہریت گول کمیونٹی ریزرو میں امریکی شہری رابرٹ مایلزہال نے مارخور کا شکار کیا۔مارخور کی عمر آٹھ سال ہے جبکہ اس کی سینگوں کی لمبای اٹتیس انچ ہے۔امریکی شہری نے ایک لاکھ پچیس ہزار امریکی ڈالر کے عوض یہ شکارکیا جس کا پاکستانی کرنسی میں تین کروڑ پچھتر لاکھ روپے بنتی ہے۔اس سے پہلے بھی ہنٹنگ ٹرافی کے تحت دو مرتبہ مارخور کا شکار ہوچکا ہے جبکہ اس سیزن کا یہ تیسرا شکار ہے ،ڈویژنل فارسٹ آفیسر وایلڈ لایف فاروق نبی کے مطابق ہنٹنگ ٹرافی سے ملنے والی رقم میں سے اسی فیصد مقامی لوگوں کو دی جاتی ہے جبکہ بیس فی صد سرکاری خزانے میں جمع کی جاتی ہے۔

ہنٹنگ ٹرافی سے ملنے والی رقم سے ان پسماندہ علاقوں میں اکثر ترقیاتی اور بحال کاری کے کام کیا جاتا ہے جن میں پل، راستے وغیرہ شامل ہیں۔ ہنٹنگ ٹرافی کیلیے بین الاقوامی سطح پر بولی لگتی ہے جس میں کامیاب بولی دہندہ کو شکار کا لایسنس ملتا ہے جو شاہ شاہ، گہریت وغیرہ میں مارخور کا شکار کرتا ہے جبکہ چترال گول نیشنل پارک میں ہر قسم کے قانونی شکار پر بھی پابندی ہے ۔ وہاں چوری چپے شکار تو ہوتا ہے مگر ہنٹنگ ٹرافی کے تحت وہاں شکار پر پابندی ہے۔ وہاں تین ہزار کے لگ بھگ مارخور بستے ہیں جن میں اکثر عمر رسیدہ مارخور گاوں کا رح بھی کرتے ہیں اور اکثر آوارہ کتوں کا شکار بن جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ چترال گول نیشنل پارک کے آس پاس بفر زون میں ان عمر رسیدہ مارخوروں کی شکار کی اجازت دی جایے جو بڑھاپے کی وجہ سے خود بخود مر جاتے ہیں۔ اگر ان کمزور، لاغر اور عمر رسیدہ مارخوروں کی شکار کی اجازت مل جایے تو اس سے چترال کو کروڑوں روپے کی آمدنی ایے گی اور اس سے کافی سارے ترقیاتی کام بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…