ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

امریکہ اپنے فوجیوں کو جدید فوج بنانے میں مصروف

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |
110510-A-CA126-144 U.S. Army 1st Lt. Theo Kleinsorge (left), with 1st Platoon, Delta Company, 2nd Battalion, 30th Infantry Regiment, and Spc. Kaleb Ivanoff take cover behind a hill while receiving enemy fire near the village of Mereget, in Kherwar district, Logar province, Afghanistan, on May 10, 2011. DoD photo by Sgt. Sean P. Casey, U.S. Army. (Released)

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دنیا بھر کے ممالک استعداد کے مطابق اپنی فوجی طاقت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ملک فوجیوں کی اچھی تربیت اور بہترین اسلحے کی خریداری پر ہی تکیہ کیے بیٹھے ہیں لیکن امریکہ اور چین جیسے ترقی یافتہ ملک اپنی فوجیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے کے لیے تجربات میں مصروف ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اسلحے یا فوجیوں کی تربیت میں نہیں بلکہ فوجیوں کے جسم کے اندر استعمال کی جائے گی۔ کچھ عرصہ قبل چین اور امریکہ کی طرف سے ”سپرسولجر“ بنانے کی خبریں آ رہی تھیں اور اب ایک نیوز ویب سائٹ فیوڑن ڈاٹ نیٹ نے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ اپنے فوجیوں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے ان کے دماغوں میں ایک ”چِپ“ نصب کرنے جا رہا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ذیلی تحقیقاتی ادارے ڈارپا( DARPA)نے یہ چِپ (Chip)ایجاد کی ہے جو اب رضاکاروں کے دماغ میں اسے نصب کرکے تجربات کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان رضاکاروں کے دماغوں کی سرجری کرکے ان میں یہ چپ لگائی گئی۔اس چِپ سے جہاں میدان جنگ میں فوجیوں کی کارکردگی بہتر ہو گی وہیں جنگ سے واپسی پر قتل و غارت گری کے خوفناک مناظر کو ذہن سے محو کرنے میں بھی مدد ملے گی جس سے اہلکار نفسیاتی طور پر خوفناک مناظر سے مغلوب نہیں ہوں گے۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں 25لاکھ امریکی فوجیوں نے حصہ لیا جن میں سے واپسی پر 3لاکھ اہلکار شدید نفسیاتی دباﺅ کا شکار تھے۔ڈارپا نے ان اہلکاروں کو اس ذہنی انتشار اور خوفناک جنگی مناظر کے اثرسے نکالنے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے۔ ان تمام پروگرامز کا مرکزی خیال فوجیوں کے دماغوں میں اس چِپ کی تنصیب ہی تھا۔ ڈارپاکے ترجمان نے ویب سائٹ کو بتایا کہ یہ چِپ ان رضاکاروں کے دماغوں میں لگائی جا چکی ہیں جن کے دماغ کی کسی اور وجہ سے سرجری ہونا تھی۔ ان تجربات کی کامیابی کے بعد یہ چِپ فوجیوں میں مستقل طور پر نصب کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…