اسلام آباد(این این آئی)ملک بھر سے مجموعی طور پر 3345 امیدواران کیکاغذات نامزدگی چھان بین کے دوران مسترد کردئیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں 859 حلقوں میں 28686 امیدواران کی کاغذات نامزدگی کی چھان بین کا عمل جاری تھا۔ یہ سرکاری اعدادوشمار چاروں صوبائی الیکشن ہیڈکوارٹرز، چیف سیکرٹریوں،ائی جی پولیس اور 16 اضلاع کے الیکشن حکام سے حاصل کیے گئے ، قومی اسمبلی 1186 امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے۔سرکاری ذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے 2156 امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے، 2018 میں مجموعی طور پر 1896 جبکہ 2013 میں 3800 سے زائد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے۔مسترد شدہ 552 امیدواران کو 12 سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور 2628 امیدواران ازاد حیثیت سے میدان میں تھے۔
چھان بین کے عمل میں فیل ہونے والے امیدواروں کے بنیادی مطلوبہ کاغذات مکمل نہیں تھے، کچھ فائلر نہیں تھے، کچھ سزا یافتہ تھے اور کے اثاثوں کے کاغذات مکمل نہیں تھے۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تحریک انصاف کے 381 حمایتی امیدواران کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں۔ ن لیگ کے 24 حمایت یافتہ کے کاغذات بھی مسترد کردیے گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ 41 پی پی پی کے حمایت یافتہ امیدواران کیکاغذات مسترد کردیے گئے ہیں،جی ڈی اے کے 7 امیدواران کے کاغذات مسترد ہو چکے ہیں۔لاہور کے قومی اور صوبائی حلقوں سے 245 امیدواران کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں، کراچی کے حلقوں میں 211 امیدواروں کے کاغذات مسترد کردیے گئے۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پشاور سے 189 امیدواران کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا گیا۔



















































