ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

فتح پور سیکری مغل شہنشاہ اکبر اعظم کے خوابوں کا شہر

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

فتح پور سیکری ریاست آگرہ سے 35 کلو میٹر دورواقع ہے ۔ اس شہر کو مغل شہنشاہ اکبر نے اپنے فرزند کی پیدائش پر تعمیر کروایا تھا اور اس کو اپنادارالحکومت بناناچاہتا تھا لیکن سیاسی حالات کی وجہ سے اس نے دارالحکومت پہلے لاہور اور پھر آگرہ منتقل کردیا۔ اس طرح اکبراعظم کا یہ خوابوں کا شہرویران ہوگیا۔ اس کی شاندار عمارتیں آج بھی جوں کی توں حالت میں ہیں۔ 1569 میں تعمیرکردہ یہ شہر 1571سے 1585تک مغل حکومت کا دارالحکومت تھا۔ اس شہر کا نام پہلے سیکری گڑھ تھا جو آخری راجپوت راجہ مہاراجہ سنگرام سنگھ کے قبضہ میں تھا۔ اکبر نے چتوڑ اور رنتھبور پر اپنی فتوحات کی یاد میں اس شہر کا نام فتح پور سیکری رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اکبر نے جب صحرامیں مقیم صوفی سنت حضرت سلیم چشتیؒ کی خانقاہ میں حاضری دی تو انہوں نے بشارت دی کہ اکبر کا ہونے والا بیٹا اس کی سلطنت کو نہ صرف وسعت دے گا بلکہ وہ مغلیہ سلطنت کا ایک عظیم بادشاہ ہوگا۔ 1569میں اکبر کے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ،اس نے اپنے بیٹے کا نام سلیم چشتیؒ کے نام پر سلیم رکھا جو بعد میں شہنشاہ جہانگیر کھلایا۔ اس کی پیدائش پر ہی اکبر نے صوفی حضرت سلیم چشتی کے اعزاز میں یہاں کے ایک شہر کی بنیاد ڈالی۔ حضرت سلیم چشتیؒ کی درگاہ اسی مقام پر سنگ مرمر سے بنائی گئی ہے۔ جب اکبر نے اس شہر کو اپنا دارالحکومت بنایاتو اس کا نام فتح آباد تھا۔ یہاں اکبراعظم کی جانب سے تعمیر کروائے گئے محلات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہیں۔فتح پور سیکری کے شاہی محلات دو میل لمبے اور ایک میل چوڑے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے 3 اطراف میں 5 میل لمبی دیوار بنائی گئی۔ شاہی محلات کے علاوہ اس علاقہ میں کچھ اور بھی عمارتیں ہیں جوکھنڈر بن گئی ہیں۔ نوبت خانہ کے قریب پرانے شہر میں بازاروں کے باقیات موجود ہیں۔ نوبت خانہ آگرہ روڈ پر شہر کا باب الداخلہ ہے۔ نیا شہر اس کامپلکس کے مغربی سمت میں بسایا گیا ہے۔ 7ہزار کی آبادی والا یہ شہر تعمیری مزدوروں اور سنگتراشوں کیلئے شہرت رکھتا ہے جس وقت فتح پورسیکری تعمیر کیا گیا تھااس شہر کے 3 طرف دیوار تھی اور ایک طرف جھیل تھی یہ جھیل اب باقی نہیں ہے۔ سرخ پتھر سے بنی عمارتیں مقامی طور پر دستیاب پتھروں سے بنائی گئی ہیں اس کامپلکس کے دروازوں میں دہلی گیٹ، لال گیٹ،آگرہ گیٹ، چندن پال گیٹ ،گوالیار گیٹ، سہرا گیٹ، چور گیٹ اور اجمیر گیٹ شامل ہے۔
بلند دروازہ : فتح پور سیکری میں درگاہ حضرت سلیم چشتی کامپلکس میں داخل ہونے کیلئے بلند دروازے سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس دروازے کو شہنشاہ اکبر نے 1601میں تعمیر کروایا تھا۔ 43میٹر بلند اس دروازے کو اکبر کی گجرات اور اتر پردیش میں فتوحات کی یاد میں تعمیر کروایاتھا۔ اس کی کمان پر قرآنی آیات کنندہ ہیں اس دروازے تک پہنچنے کیلئے 42 سیڑھیاں ہیں۔ یہ دروازہ 35 میٹرچوڑا ہے۔ دروازے کی چھت پر 13 چھتری نما گنبد ہیں۔ دروازہ 3 کمانوں پر مشتمل ہے۔ بلند دروازے سے داخل ہوتے ہی اس کے بائیں طرف ایک کنواں ہے اور سامنے درگاہ حضرت سلیم چشتی ؒ اور جامع مسجدہے۔ اس دروازہ میں داخل ہونے کی ایک اور نکلنے کی 3 کمانیں ہیں۔
درگاہ حضرت سلیم چشتی ؒ : یہ درگاہ جو مکمل سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی ہے حضرت سلیم الدین چشتی (1478تا 1572) کی آخری آرامگاہ ہے۔ سنگ مرمر میں انتہائی باریک اور نفیس انداز سے تراشی ہوئی جالیوں سے اس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ حضرت سلیم چشتیؒ ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے خاص مریدوں میں سے تھے۔ انہوں نے مہارانا پرتاپ کے خلاف ایک جنگ میں اکبرکی فوج کے شیخ زادہ دستے کی قیادت بھی کی تھی۔ تاریخ کے مطابق اکبراعظم لاولد تھا۔ 14 سال کی عمر میں ہی تخت پر بیٹھنے والے اکبر کو رقیہ بیگم سے ایک لڑکی (1561)ہوئی جس کا نام فاطمہ رکھاگیا لیکن وہ نومولود ہی فوت ہوگئی۔ اس کے بعد دو بیٹے ہوئے جن کا نام حسن اور حسین رکھا گیا (1564) لیکن وہ بھی ایک ماہ میں چل بسے۔ اس کے بعد اکبر نے آگرہ سے سیکری تک کا پیدل سفر کیا اور حضرت شیخ سلیم الدین چشتی ؒ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ وہ نرینہ اولاد کیلئے دعا کریں۔ ان کی دعاسے اکبرکے یہاں بیٹا ہوا جس کا نام نور الدین محمد سلیم رکھا گیا۔ (اکبر کو سلیم کے علاوہ دو اور بیٹے مراد(1569)اور دانیال (1572) تھے مراد 29 برس کی عمر میں اور دانیال 31 برس کی عمر میں کثرت شراب نوشی سے فوت ہوگئے۔ ان کے علاوہ اکبر کی 6 بیٹیاں بھی تھیں) اس مقبرے کے بائیں طرف مشرق کی سمت اسلام خان اول کا مقبرہ ہے جو حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے پوتے شیخ بدر الدین چشتی کے فرزند تھے۔ شیخ بدر الدین چشتی، جہانگیر کی فوج میں جنرل تھے۔ اس مقبرے پر 36 چھوٹی چھتریاں بنائی گئی ہیں جو گنبد کی شکل میں ہے یہاں کئی نامعلوم افراد کی قبور ہیں یہ تمام قبور شیخ سلیم چشتیؒ کے افراد خانہ کی بتائی جاتی ہیں۔
جامع مسجد: یہ مسجد 1571 میں حضرت سلیم چشتیؒ کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔ اس وقت مولوی مکرم احمد اس شاہی مسجد کے امام ہیں جن کو بھی شاہی امام کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کو اسلامی فن تعمیر کے طرز پر تعمیر کیا گیا۔ اس پر 5 چھتری نما گنبد ہیں۔
دیوان خاص: یعنی خاص محل یہ ایک چارکونی سادہ عمارت ہے جس کی چھت پر چاروں طرف چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ لیکن یہ ایک درمیانی ستون کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ستون چار کونی بنیاد پر ہے اور اس پر خوبصورت بیل بوٹے بنے ہوئے ہیں۔ اس کے اوپر ایک پلیٹ فارم ہے جہاں اکبربیٹھا کرتا تھا یہ پلیٹ درمیان میں معلق ہے اور اس کو چاروں کونوں سے ایک راستے کے ذریعہ ملایاگیاہے۔ یہاں اکبر کا خاص دربار لگتا تھا۔
دیوان عام : یعنی عام دربار لگانے کی جگہ۔ یہ دربار ہر قلعہ میں ملتا ہے۔ فتح پور سیکری کا دیوان عام ایک کھلے میدان میں اسٹیج کے نمونے کا بنایا ہوا ہے جس پرکمانیں بنی ہوئی ہیں۔ دیوان عام کے جنوبی مغرب میں ترکی کے مشہور حمام بنے ہوئے ہیں۔
عبادت خانہ: اکبر اعظم نے 1575میں یہ عبادت خانہ اس وقت بنوایا تھا جب اس نے جودھا بائی کے مشورے سے دین الہی کے نام سے نئے مذہب کی بنیاد ڈالی تھی۔
انوپ تلاو: ایک مصنوعی تالاب ہے۔ اس پر سے گذر کر چند خاص محلات تک جانے کیلئے پُل بنے ہوئے ہیں۔ ان عمارتوں میں خواب گاہ یعنی اکبر کا خاص کمرہ، پنچ محل جو پانچ منزلہ عمارت ہے، دیوان خاص آنکھ مچولی اور دلچسپ کورٹ شامل ہیں۔
ہجرہ انوپ تلاؤ: بتایاجاتا ہے کہ یہ اکبر کی بڑی بیگم رقیہ کا خاص کمرہ تھا چونکہ یہ چھوٹا کمرہ ہے اس لئے اسکے بارے میں وثوق سے کہنا مشکل ہے۔
مریم الزمانی (جودھا بائی) کا محل : اکبرکی زندگی میں آنے والی راجپوت شہزادی جودھا بائی کی تاریخی اہمیت متنازعہ ہے۔ تاریخ میں اس خاتون کو اس لئے شہرت ملی کہ اس کو اکبر کے واحد وارث جہانگیر کی ماں ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے لیکن تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ جودھا بائی نے کبھی اسلام قبول نہیں کیا اور اس کے کہنے پر ہی اکبر نے دین الہی مذہب کی بنیاد ڈال کر مسلمانوں کی نظروں میں مشکوک ہوگیا ۔ جودھا بائی کا محل گجراتی اور ہندو طرز تعمیر کا امتزاج ہے۔ ہاتھی پول گیٹ کے آگے یہ محل تعمیر کیا گیا۔

نوبت خانہ : اس کو نقار خانہ بھی کہاجاتا ہے۔ یہاں موسیقار مختلف مواقعوں پر موسیقی بجاتے تھے۔ یہ مقام بھی ہاتھی پول گیٹ کے آگے ہے ۔ بادشاہ کی آمد کا اعلان بھی نقارہ بجا کر کیا جاتا تھا۔ یہ مقام کامپلکس کے جنوبی باب الداخلہ پر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دروازہ سے بادشاہ کی آمد ہوتی تھی۔
پچیس کورٹ: شطرنج کھیلنے کیلئے بنایاگیا مقام، یہاں پیادوں کے طور پر انسانوں کااستعمال ہوتا تھا۔
پنچ محل: فتح پور سیکری کی سب سے بلنداور نمایاں عمارت ہے۔ اس محل کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ اس کی کمانوں اور دیواروں کو تراشا گیا ہے۔ اس محل میں جملہ 176 ستون ہیں۔
بیر بل مکان: اکبر اعظم کے نو رتنوں میں ایک نورتن یعنی وزیر بیربل بھی تھا جس کے قصے کافی مشہور ہیں۔ اس وزیر کا ایک مکان فتح پور سیکری میں موجود ہے۔ سرخ پتھرسے تعمیر کردہ یہ مکان کافی خوبصورتی سے بنایاگیا ہے۔
ان عمارتوں کے علاوہ اس کامپلکس میں ٹیکسال، دفترخانہ ،کارخانہ، خزانہ ، حمام، داروغہ کے کمرے، اصطبل، کاروان ،سرائے، حکیم و اطباء کے مکانات بھی موجود ہیں۔ فتح پور سیکری کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے عالمی یادگاروں میں شامل کیا ہے ۔ اس لئے اس کامپلکس کی کافی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ فتح پور سیکری دیکھنے کیلئے اوقات صبح 6 بجے سے شام 7.30 بجے ہیں اور داخلہ ٹکٹ 50 روپئے ہے۔ فتح پور سیکری جانے کیلئے آگرہ سے بسیس اور ٹیکسیاں چلتی ہیں۔ یہ علاقہ آگرہ ،جئے پور روڈ پر ہے۔ شاہی محلات فتح پور سیکری ریلوے اسٹیشن سے صرف ایک کیلو میٹر دور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…