جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

شوگر مل والے کرکٹ چلارہے ہیں، بابر کی تضحیک ہوئی،کپتانی سے ہٹانا درست نہیں، میانداد

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)ماضی کے سپر اسٹار، کرکٹ لیجنڈ، سابق کپتان اور کوچ جاوید میانداد نے کہا ہے کہ شوگر مل چلانے والے کرکٹ چلارہے ہیں، غلط فیصلوں سے پاکستان کرکٹ کو تباہی کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ ایک انٹرویومیں سابق کپتان نے کہا کہ وہ لوگ کرکٹ چلارہے ہیں جن کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے غلط فیصلے ہورہے ہیں، سیاسی اثر و رسوخ سے پی سی بی میں آنے والے کھیل کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں، سیاسی لوگ سیاست تک محدور رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عبدالحفیظ کاردار جیسے ایڈمنسٹریٹرز کی ضرورت ہے، سلیکشن کمیٹی میں جونیئر اور کم تجربہ کار کرکٹر کی تقرری حیران کن ہے۔جاوید میانداد نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے کھلاڑی کی تضحیک کی گئی، نان کرکٹرز کرکٹ کے فیصلے کررہے ہیں، بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانیکا فیصلہ درست نہیں ہے، کرکٹرز کو احترام اور عزت دی جائے، بابر کے ساتھ کوئی تگڑا مینیجر رکھا جاتا تاکہ وہ مضبوط کپتان بنتا، ائیر مارشل نورخان نے مجھے کپتان بناکر مشتاق محمد کو مینیجر بنایا تھا، بابر جیسے بڑے کھلاڑی کے ساتھ پی سی بی کا حالیہ سلوک افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کی تکنیک میں معمولی خامی ہے، وہ کریز پر جاکر بولر پر اٹیک نہیں کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی بیٹنگ میں تسلسل دکھائی نہیں دیتا، بابر میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن اسے اپنے انداز میں تھوڑی سی تبدیلی لانا ہوگی، اسے فائن ٹیو ننگ کی ضرورت ہے۔ بابراعظم ایک طریقے سے کھڑی ہوئی باڈی سے بیٹنگ کرتا ہے، سیدھا باڈی سے گھٹنے کا مڑنا ضروری ہے۔میانداد نے کہا کہ بابر اعظم کو کوئی بتانے والا نہیں ہے اس میں ساری کوالٹی ہے لیکن اسے کوئی نیٹ پر بتانے والا نہیں ہے، وہ اپنی خامیوں کو بار بار دہرا رہا ہے۔

نیٹ پر غلطیاں دور کرنے سے اس میں اعتماد ہوگا وہ اور اچھا بیٹر بنے گا، ٹیلنٹ کا درست استعمال نہیں ہورہا، میں جس وقت پاکستان ٹیم کا ہیڈ کوچ تھا میں نے محمد یوسف،یونس خان سمیت کئی بیٹرز کی غلطیوں پر کام کیا۔انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو چاہیے کہ وہ اپنی خامیوں پر کام کرے، بابر اعظم ایک بار میرے پاس آیا تھا اگر وہ اب بھی مجھ سے پوچھنا چاہتا ہے تو میں ہروقت حاضر ہوں، مجھے اس ملک نے دیا میں ہروقت ہر کھلاڑی کو بتانے کے لیے تیارہوں، لیکن اگر کوئی نہ آناچاہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔

جاوید میانداد نے کہا کہ یونس خان اور یوسف ہر وقت سیکھنے کو تیار رہتے تھے، ا?ج کے کرکٹرز سیکھنا نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ اقبال قاسم،مشتاق محمد،صادق محمد،ہارون رشید ،شعیب محمداور ان جیسے کرکٹرزکی موجودگی میں ایسے کرکٹر کو چیف سلیکٹر بنادیا گیا جو حال ہی میں کرکٹ سے ریٹائر ہوئے ہیں، وہاب ریاض نے کتنی کرکٹ کھیلی ہے؟ مجھے عہدے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اچھے لوگوں کو آگے لایا جائے جس سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہو۔جاوید میانداد نے ذکاء اشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے کتنی کرکٹ کھیلی ہے لیکن وہ کرکٹ کی قسمت کا فیصلہ کررہے ہیں، مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہے لیکن باہر بیٹھ کر کرکٹ کی حالت پر افسوس ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…