ریسلنگ کا شمار دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے ، تاہم ڈبلیو ڈبلیو ای میں صرف امریکی پہلوانوں کی اجارہ داری قائم ہے ۔ ریسلنگ کی اس انڈسٹری نے امریکی پہلوانوں کو ارب پتی بنا دیا ہے ۔ ریسلنگ کو اس کی مقبولیت کی وجہ سے انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے۔
ہالیووڈ میں دھاک بٹھانے والے معروف ریسلر’’ دی راک ‘‘ سب سے زیادہ دولت مند ہیں ۔ جبکہ جان سینا کی کمائی ساڑھے 27 لاکھ ڈالر سالانہ ہے ، اسی طرح بڑھتی ہوئی عمرکے باوجود روایتی حریف انڈرٹیکر اور بروک لیزنر بھی خوب کمائی کر رہے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق ریسلنگ کی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ای کے اثاثے
1.25 بلین ڈالرز سے بڑھ کر ہیں۔ڈبلیو ڈبلیو ای کے سربراہ وائنس میک ماہون اگرچہ بہت سے معاملات میں کنجوس واقع ہوئے ہیں تاہم وہ اپنے ریسلرز کا نہ صرف بہت خیال رکھتے ہیں بلکہ انھیں ماہانہ کثیر رقم بھی دیتے ہیں۔ دولت مندوں کی اس فہرست میں سب سے پہلا نام ڈوائن جونسن کا ہے جو ریسلنگ کی دنیا میں دی روک کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
ریسلنگ کی دنیا میں آنے سے پہلے ڈوائن جونسن میامی یونیورسٹی کی فٹبال ٹیم سے منسلک تھے لیکن ایک حادثے کے بعد انھیں اس کھیل کو خیر باد کہنا پڑا۔ بعد ازاں ڈوائن جونسن نے ریسلنگ کی مشہور تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ای کو جوائن کر لیا جہاں سے ان کو پہلا نام روکی مائیویا ملا تاہم بعد ازاں ان کو دی روک سے پکارا جانے لگا۔ ڈبلیو ڈبلیو ای کے بینر تلے انہوں نے بہت سے مقابلے لڑے اور جیتے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈوائن جونسن سالانہ 3.5 ملین ڈالرز کی کمائی کرتے ہیں۔ ریسلنگ کا کھیل جان سینا کے بغیر نامکمل ہے۔ اس مشہور ریسلر نے اپنے ریسلنگ کیریئر کا آغاز 2005 سے کیا اور اب تک دو درجن سے زائد ٹائٹل جیت چکے ہیں۔ جان سینا کی سالانہ آمدنی 2.75 ملین تک جا پہنچی ہے۔ انڈر ٹیکر کا شمار امریکا کے سب سے مشہور اور سینئر ریسلرز میں ہوتا ہے۔ سالانہ آمدن 2.25 ملین سالانہ ہے۔ روک لیزنر کا شمار بھی ڈبلیو ڈبلیو ای سے منسلک اہم پہلوانوں میں ہوتا ہے۔ بروک لیزنر نے ریسلنگ کا آغاز کالج دور سے کیا تھا جہاں سے وہ اتنے مقبول ہوئے کہ ڈبلیو ڈبلیو ای نے فوری طور پر ان سے معاہدہ کر لیا۔ سالانہ 2 ملین ڈالرز تک کمائی کر لیتے ہیں۔



















































