جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

15افریقی ملکوں میں واگنر گروپ کے 15 ہزار ارکان کا پراسرار کردار

datetime 27  جون‬‮  2023 |

ماسکو (این این آئی)روس میں ”واگنر” گروپ کے بانی ایوگنی پریگوزن کی جانب سے کی گئی نحیف بغاوت کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ اس بغاوت کے اثرات کا انحصار صرف روسی اور یوکرینی ماحول تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ راکھ کے نیچے بھڑکنے والی یہ آگ براعظم افریقہ کے کئی ملکوں تک وسیع ہو سکتی ہے۔افریقی ممالک پریگوزن اور روسی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں پیش رفت سے اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ فکر مند محسوس کر رہے ہیں ۔

خاص طور پر جب روس اور یوکرین سے واگنر گروپ کو سیاسی اور فوجی میدان سے نکالنے کی توقعات ہیں تو افریقہ میں واگنر کی بڑی فوجی اور اقتصادی موجودگی سے تشویش بڑھ رہی ہے۔مغربی انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس گروپ سے وابستہ 15 ہزار سے زیادہ جنگجو ہیں جو لیبیا، سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، مالی، مڈ گاسکر اور موزمبیق میں کھلے عام موجود ہیں۔ واگنر کے ارکان کا پھیلاؤ برکینا فاسو، گنی، گنی بساؤ، کانگو، انگولا، زمبابوے اور چاڈ میں غیر یقینی ہے۔پچھلی دہائی کے وسط سے سیاسی اور سیکورٹی کے حوالے سے ہنگامہ خیز افریقی ملکوں میں واگنر گروپ کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وسطی افریقی جمہوریہ میں، گروپ سے وابستہ تقریباً دو ہزار کارکن خانہ جنگی میں حکومتی افواج کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ لڑائی وہاں 10 سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ جمہوریہ مالی میں واگنر کے تقریباً 3 ہزار افراد موجود ہیں۔ مالی کے شمالی علاقے بحرانوں کا شکار ہیں۔مغربی رپورٹس میں کئی افریقی ملکوں میں کام کرنے والے روسی واگنر گروپ کے ہزاروں کرائے کے فوجیوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں ایک ہزار 890 روسی ٹرینرز وہاں جاری خانہ جنگی میں حکومتی افواج کی مدد کر رہے ہیں۔ان ملکوں کی وابستگی کے باوجود جن میں واگنر گروپ پھیلا ہوا ہے۔ روس میں اس مسلح بغاوت کے حوالے سے افریقی ان ممالک کی حکومتیں اپنی حکمرانی کے استحکام کے بارے میں فکر مند ہیں۔ افریقی ملکوں کے لیے اس گروہ کے عناصر جن کا مستقبل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے کی قسمت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ اس گروپ کے افراد نے قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کی ہے۔

واگنر گروپ براعظم افریقہ کے ان ملکوں میں سونا، ہیرے، یورینیم اور تیل کی دریافت کا کام کرنا چاہتا ہے۔بین الاقوامی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ واگنر گروپ کی سرگرمیاں ان علاقوں میں ہیں جو سیکیورٹی سے بالاتر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بنگوئی میں حکومت نے ایک ذیلی کمپنی کو ایک لاکھ 87 ہزار ہیٹکٹر کے رقبے بغیر کسی پابندی کے درخت کاٹنے کی اجازت دی ہے۔وسطی افریقی جمہوریہ میں ” نداسیما” سونے کی کان سے متعلق بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کی کان کنی کمپنی سے مڈ گاسکر کی ایک کمپنی کے حق میں رعایت واپس لے لی گئی ہے۔افریقہ رپورٹ کی طرف سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ واگنر گروپ نے کیمرون میں ڈوالاa کی بندرگاہ کے ذریعے بھاری کان کنی کا سامان کس طرح درآمد کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…