جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جناح اسپتال میں لڑکی کی لاش چھوڑنے کا واقعہ، تیسرا کردار بھی سامنے آگیا

datetime 25  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے جناح اسپتال میں 18سال کی لڑکی کی لاش چھوڑ کر جانے والے مرد اور خاتون کے بعد ایک اور کردار سامنے آ گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق گلستانِ جوہر کا رہائشی جمن لڑکی کو چند ماہ سے پارٹیوں میں بھیجا کرتا تھا، تینوں افراد کی تلاش جاری ہے۔

جناح اسپتال میں 18 سال کی لڑکی کی لاش چھوڑ کر جانے والے واقعے کا مقدمہ 24 گھنٹوں سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود درج نہیں ہو سکا ہے۔پولیس حکام کے مطابق کار سوار خاتون اور مرد کا بھی کوئی پتہ نہیں چل سکا، دونوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔حکام نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ لڑکی کے والدین کی کراچی آمد کے بعد درج کیا جائے گا۔پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی ساس کراچی میں موجود ہے اس سے رابطے میں ہیں، لڑکی کی میت والدین کے پہنچنے کے بعدان کے حوالے کی جائے گی۔واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی گزشتہ روز برآمد کر لی گئی تھی، کار کے مالک اور کرائے پر لینے والے شخص کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔دوسری جان پولیس نے کراچی جناح اسپتال میں لائی گئی مردہ خاتون عائشہ کی ساس نصرت ثوبیہ کا بیان مسترد کر دیا اور انہیں شاملِ تفتیش کر لیاہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی)سائوتھ اسد رضا نے کہا ہے کہ خاتون کے دیے گئے بیان کو پولیس نے مسترد کر دیا ہے، عائشہ کی میت ساس کے مانگنے کے باوجود اسے نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ عائشہ کی میت اس کے والد کے حوالے ہی کی جائے گی، عائشہ کی والدہ کا انتقال ہوچکا ہے، عائشہ کی 4 بہنیں اور 1 بھائی ہے۔ایس ایس پی سائوتھ کے مطابق کوشش ہے کہ عائشہ کے والدکی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے، والد نے مقدمہ درج نہ کرایا تو سرکار کی مدعیت میں درج کیا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ مفرور خاتون اور مرد کی تلاش جاری ہے، انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا، متوفیہ عائشہ کی ساس کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے، عائشہ کا شوہر منشیات کا عادی اور لاپتہ ہے، اس کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ عائشہ کی ساس نے پولیس کو بتایا تھا کہ بہو رات سالگرہ کی دعوت کا بتا کر گئی تھی، اس کے بعد کیا ہوا معلوم نہیں۔خاتون نے بتایا کہ 2 سال قبل میرے بیٹے عادل کی عائشہ سے شادی ہوئی تھی، بیٹا نشے کا عادی اور ٹیکسی ڈرائیور ہے جبکہ عائشہ کا آبائی تعلق رحیم یار خان سے تھا۔

عائشہ کی ساس نے کہاتھا کہ عائشہ میرے ساتھ رہتی تھی اور پارلر میں کام کرتی تھی، ایک ہفتے سے میں پنجاب میں اپنے آبائی علاقے میں تھی، ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں اور نہ دشمنی ہے، ہم کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں چاہتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…